کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اونٹ کے دودھ اور دیگر چیزوں کے ذریعے ، دل کی دوا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ فِي أَلْبَانِ الْإِبِلِ وَأَبْوَالِهَا شِفَاءً لِلذَّرِبَةِ بُطُونُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اونٹ کے دودھ اور ان کے پیشاب میں ، لوگوں کے پیٹ کی بیماری کے لئے شفاء ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُنِي ، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي ، قَالَ : ¤ " أَنْتَ رَجُلٌ مَفْؤُودٌ ، فَأْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلِدَةَ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ ، فَلْيَأْخُذْ خَمْسَ ثَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ ، فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ فَلْيَدْلِكْ بِهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَجَّاجِ الثَّقَفِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لئے میرے پاس تشریف لائے آپ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا یہاں تک کہ مجھے اس کی ٹھنڈک دل پر محسوس ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایک ایسے شخص ہو جسے دل کی شکایت ہے تم حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو طب کا کام کرتا ہے ، اور اسے چاہیے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سے پانچ لے کر ، انہیں ان کی گٹھلیوں سمیت پیس لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حجاج ثقفی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حجاج ثقفی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔