عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ) قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ : أَهَكَذَا أُنْزِلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا ، وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً قَطُّ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لِأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ ، وَأَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنْ لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعِ قَدْ تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ ، لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أُهَيِّجَهُ ، وَلَا أَنْ أُحَرِّكَهُ ، حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ، فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ؟ ! قَالَ : فَمَا لَبِثُوا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ ، فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عِشَاءً ، فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا ، فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ ، فَلَمْ يُهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ ، فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً ، فَوَجَدْتُ عِنْدَهَا رَجُلًا فَرَأَيْتُ بِعَيْنِي وَسَمِعْتُ بِأُذُنِي ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا جَاءَ بِهِ ، وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ وَقَالُوا : قَدِ ابْتُلِينَا بِمَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْآنَ يَضْرِبُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَيُبْطِلُ شَهَادَتَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لِأَرْجُوَ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِي مِنْهَا مَخْرَجًا ، فَقَالَ هِلَالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَى مَا اشْتَدَّ عَلَيْكَ بِمَا جِئْتُ بِهِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لِصَادِقٌ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيُرِيدُ أَنْ يَأْمُرَ بِضَرْبِهِ ، إِذْ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَحْيُ ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ عَرَفُوا ذَلِكَ فِي تَرَبُّدِ جِلْدِهِ ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ الْوَحْيُ ، فَنَزَلَتْ : ( وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ ) الْآيَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالسِّيَاقُ لَهُ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام عائد کرتے ہیں پھر چار گواہ نہیں لے کے آتے ہیں ، تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا یہی لوگ فاسق ہیں“ ۔ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم سن رہے ہو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں ملامت نہ کریں یہ ایک غیور شخص ہیں اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمیشہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ ہی شادی کی اور جب بھی انہوں نے کسی خاتون کو طلاق دی ، تو ہم میں سے کوئی شخص یہ جرات نہیں کر سکا کہ اس خاتون کے ساتھ شادی کر لے ایسا ان کے مزاج کی شدت کی وجہ سے ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں یہ بات حق ہے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، لیکن مجھے اس بات پر حیرانگی ہو رہی ہے کہ اگر میں یہ صورت حال پاتا ہوں کوئی شخص میری بیوی کے قریب جا چکا ہو ، اور میں اسے ڈراؤں گا نہیں اور میں اسے حرکت نہیں دوں گا پہلے چار گواہ لے کے آؤں گا اللہ کی قسم ! جب تک میں چار گواہ لے کے آؤں گا اتنی دیر میں وہ اپنی ضرورت پوری کر چکا ہو گا راوی کہتے ہیں ، پھر تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد ہلال بن امیہ آئے جو ان تین افراد میں سے ایک تھے جن کی ، توبہ قبول ہوئی تھی وہ رات کے وقت اپنی زمین سے واپس آئے ، تو انہوں نے اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پایا انہوں نے اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے یہ بات دیکھی اور دونوں کانوں کے ذریعے یہ بات سنی ، لیکن انہوں نے صبح ہونے تک اس شخص کو نہیں للکارا اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! رات کے وقت میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو میں نے اس کے پاس ایک شخص کو پایا میں نے یہ چیز اپنی آنکھوں کے ذریعے دیکھی اور اپنے کانوں کے ذریعے سنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی دی ہوئی اطلاع ناگوار گزری اور آپ کے لئے یہ بات گرانی کا باعث ہوئی انصار اکٹھے ہوئے ، اور انہوں نے کہا: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے جو کہا: تھا اس کے حوالے سے اب ہم آزمائش کا شکار ہو گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ کی پٹائی کروائیں گے ، اور مسلمانوں میں ان کی گواہی کو کالعدم قرار دیں گے حلال نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لئے اس سے نکلنے کی گنجائش بنا دے گا حلال نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا ہوں جو میں اطلاع لے کے آیا ہوں وہ آپ پر گراں گزری ہے ، لیکن اللہ کی قسم ! میں سچا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کر لیا تھا ان کی پٹائی کرنے کا حکم دیں اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی جب آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوتی تھی ، تو آپ کی جلد کی رنگت کی تبدیلی کی وجہ سے لوگ اس کو پہچان لیتے تھے ، تو لوگ رک گئے ، یہاں تک کہ جب وحی ختم ہوئی ، تو یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں اور ان کے پاس گواہ کے طور پر صرف ان کا اپنا وجود ہوتا ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ یہ سیاق ان کا نقل کردہ ہے ۔ امام أحمد نے اختصار کے ساتھ ان ( صحابی ) کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ ان کا مدار عباد بن منصور نامی راوی پر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ یہ سیاق ان کا نقل کردہ ہے ۔ امام أحمد نے اختصار کے ساتھ ان ( صحابی ) کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ ان کا مدار عباد بن منصور نامی راوی پر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتَ مَعَ أُمِّ رُومَانَ رَجُلًا مَا كُنْتَ صَانِعًا بِهِ ؟ " قَالَ : كُنْتُ فَاعِلًا بِهِ شَرًّا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُمَرُ أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتَ رَجُلًا مَا كُنْتَ صَانِعًا ؟ " قَالَ : كُنْتُ وَاللَّهِ قَاتِلَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ يَا سُهَيْلُ بْنَ بَيْضَاءَ ؟ " قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْأَبْعَدَ فَهُوَ خَبِيثٌ وَلَعَنَ اللَّهُ الْبُعْدَى فَهِيَ خَبِيثَةٌ ، وَلَعَنَ اللَّهُ أَوَّلَ الثَّلَاثَةِ ذَكَرَهُ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ بَيْضَاءَ تَأَوَّلْتَ الْقُرْآنَ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ إِلَى آخَرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم ام رومان کے ساتھ کسی شخص کو پاتے ہو ، تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا: میں اس کے ساتھ برا سلوک کروں گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمر ! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ اگر تم کسی شخص کو پاتے ہو ، تو تم کیا کرو گے ۔ انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں اس شخص کو قتل کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سہیل بن بیضاء ! تم کیا کرو گے ۔ انہوں نے عرض کہا: اللہ تعالیٰ اس نالائق پر لعنت کرے کیونکہ وہ خبیث ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس نالائق عورت پر لعنت کرے کیونکہ وہ خبیث عورت ہے ، تو اللہ تعالیٰ تینوں میں سے پہلے پر لعنت کرے جس نے اس کا ذکر کیا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن بیضاء ! تم نے قرآن کے اس حکم پر عمل کیا ہے : ” وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ، قَدْ قَضَى الْخَبِيثُ حَاجَتَهُ ؟ ! قَالَ : فَمَا قَامَ حَتَّى جَاءَ ابْنُ عَمِّهِ أَخِي أَبِيهِ ، وَامْرَأَتُهُ مَعَهُ ، تَحْمِلُ صَبِيًّا وَهِيَ تَقُولُ : هُوَ مِنْكَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَيْسَ مِنِّي ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ اللَّعَّانِ ، قَالَ : فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ وَأَوَّلُ مَنِ ابْتُلِيَ بِهِ . ¤ قُلْتُ : لِعَاصِمٍ حَدِيثٌ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي اللِّعَانِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب یہ آیت نازل ہوئی : ” پھر وہ چار گواہ نہیں لے کے آتے “ ۔ میں نے عرض کی : پہلے وہ چار گواہ لے کے آئے گا اس دوران ، خبیث شخص ، تو اپنی حاجت پوری کر لے گا راوی کہتے ہیں : ابھی وہ صاحب اٹھے نہیں تھے ان کے چچازاد جو ان کے والد کے بھائی کے بیٹے تھے وہ آ گئے ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھی جس نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا وہ عورت یہ کہہ رہی تھی کہ یہ بچہ تمہارا ہے ، اور وہ صاحب یہ کہہ رہے تھے یہ بچہ میرا نہیں ہے ، تو لعان سے متعلق آیات نازل ہو گئیں ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس کے بارے میں کلام کرنے والا پہلا فرد تھا ، اور میں ہی اس حوالے سے سب سے پہلے آزمائش کا شکار ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے لعان کے بارے میں نقل کیا ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعَجْلَانَ فَبَاتَ عِنْدَهَا لَيْلَةً ، فَلَمَّا أَصْبَحَ لَمْ يَجِدْهَا عَذْرَاءَ ، فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا الْجَارِيَةَ ، فَقَالَتْ : بَلَى كُنْتُ عَذْرَاءَ ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ” بالعجلان “ سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی اس نے رات اس عورت کے ساتھ گزاری اگلے دن صبح اس نے اس عورت کو پایا کہ وہ کنواری نہیں تھی ان دونوں کا معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو بلوایا تو اس نے عرض کی : جی ہاں میں کنواری تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا ان دونوں نے لعان کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : خَوْلَةُ بِنْتُ عَاصِمٍ [ وَهِيَ الْمُلَاعَنَةُ ] الَّتِي فَرَّقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ خولہ بنت عاصم لعان کرنے والی وہ خاتون تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی اس کے شوہر سے علیحدگی کروا دی تھی ۔
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ : إِنْ قَذَفَهَا زَوْجُهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ تَلَاعَنَا ، وَإِنْ قَذَفَهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا وَبَتَّهَا لَمْ يُلَاعِنْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر عورت کا شوہر اس پر زنا کا الزام لگائے ، اور اس کو طلاق دیدے اور وہ ایسی طلاق ہو جس میں شوہر کو عورت کے ساتھ رجوع کا حق ہو ، تو پھر وہ دونوں میاں بیوی لعان کریں گے لیکن مرد نے عورت پر الزام عائد کیا ہو اور پھر اسے طلاق بتہ دیدی ہو ، تو پھر مرد عورت کے ساتھ لعان نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا يَجْتَمِعُ الْمُتَلَاعِنَانِ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَصَبَةَ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ عَصَبَةُ أُمِّهِ وَأَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لعان کرنے والے کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا عصبہ وہی ہو گا ، جو اس کی ماں کا عصبہ ہو گا ، اور وہ عورت ہی اس بچے کی وارث ہو گی اور وہ بچہ اس عورت کا وارث ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا عصبہ وہی ہو گا ، جو اس کی ماں کا عصبہ ہو گا ، اور وہ عورت ہی اس بچے کی وارث ہو گی اور وہ بچہ اس عورت کا وارث ہو گا ۔