حدیث نمبر: 7842
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ، قَدْ قَضَى الْخَبِيثُ حَاجَتَهُ ؟ ! قَالَ : فَمَا قَامَ حَتَّى جَاءَ ابْنُ عَمِّهِ أَخِي أَبِيهِ ، وَامْرَأَتُهُ مَعَهُ ، تَحْمِلُ صَبِيًّا وَهِيَ تَقُولُ : هُوَ مِنْكَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَيْسَ مِنِّي ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ اللَّعَّانِ ، قَالَ : فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ وَأَوَّلُ مَنِ ابْتُلِيَ بِهِ . ¤ قُلْتُ : لِعَاصِمٍ حَدِيثٌ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي اللِّعَانِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب یہ آیت نازل ہوئی : ” پھر وہ چار گواہ نہیں لے کے آتے “ ۔ میں نے عرض کی : پہلے وہ چار گواہ لے کے آئے گا اس دوران ، خبیث شخص ، تو اپنی حاجت پوری کر لے گا راوی کہتے ہیں : ابھی وہ صاحب اٹھے نہیں تھے ان کے چچازاد جو ان کے والد کے بھائی کے بیٹے تھے وہ آ گئے ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھی جس نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا وہ عورت یہ کہہ رہی تھی کہ یہ بچہ تمہارا ہے ، اور وہ صاحب یہ کہہ رہے تھے یہ بچہ میرا نہیں ہے ، تو لعان سے متعلق آیات نازل ہو گئیں ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس کے بارے میں کلام کرنے والا پہلا فرد تھا ، اور میں ہی اس حوالے سے سب سے پہلے آزمائش کا شکار ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے لعان کے بارے میں نقل کیا ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط“ (859) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (174/17)»