وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعَجْلَانَ فَبَاتَ عِنْدَهَا لَيْلَةً ، فَلَمَّا أَصْبَحَ لَمْ يَجِدْهَا عَذْرَاءَ ، فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا الْجَارِيَةَ ، فَقَالَتْ : بَلَى كُنْتُ عَذْرَاءَ ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ” بالعجلان “ سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی اس نے رات اس عورت کے ساتھ گزاری اگلے دن صبح اس نے اس عورت کو پایا کہ وہ کنواری نہیں تھی ان دونوں کا معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو بلوایا تو اس نے عرض کی : جی ہاں میں کنواری تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا ان دونوں نے لعان کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔