حدیث نمبر: 7847
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ يُحَنَّسَ وَصَفِيَّةَ كَانَا مِنَ الْخُمُسِ ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَادَّعَاهُ الزَّانِي وَيُحَنَّسُ ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَدَفَعَهُمَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ : أَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . وَجَلَدَهَا خَمْسِينَ خَمْسِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن معبد بیان کرتے ہیں : یحنس اور صفیہ یہ خمس میں سے تھے اس عورت نے بچے کو جنم دیا زنا کرنے والے ایک شخص نے اور یحنس نے اس بچے کے بارے میں دعوی کر دیا ان دونوں نے اپنا مقدمہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق فیصلہ دوں گا ( اور وہ یہ ہے : ) ” بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی “ پھر انہوں نے اسے پچاس کوڑے لگائے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7848
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے : بچہ فراش والے کو ملے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7849
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سنان بن حارث ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سنان بن حارث ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7850
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَبِفِي الْعَاهِرِ الْحَجَرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کے منہ میں پتھر ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7851
وَعَنِ ابْنَةِ زَمْعَةَ قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ ، وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ ، وَإِنَّهَا وَلَدَتْ فَخَرَجَ وَلَدُهَا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَنَّاهَا بِهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا : " أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ بِأَخِيكِ وَلَهُ الْمِيرَاثُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَتَابِعِيهِ لَمْ يُسَمِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زمعہ کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے عرض کی : میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے اپنی اُم ولد چھوڑی ہے ہم اس عورت کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں اس عورت کے کسی شخص کے ساتھ تعلقات ہیں اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا تو اس کا بچہ اس شخص کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جس کے بارے میں ہمارا گمان تھا اس کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم اس لڑکے سے پردہ کرو وہ تمہارا بھائی نہیں ہے ، البتہ اسے وارثت ملے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں تابعی کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں تابعی کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7852
وَعَنْ زَيْنَبَ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ جَارِيَةً فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، وَإِنَّا كُنَّا نَتَّهِمُهَا ؟ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِهِ " فَلَمَّا أَتَوْهُ بِهِ نَظَرَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " إِنَّ الْمِيرَاثَ لَهُ ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ زینب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ۔ انہوں نے ایک کنیز چھوڑی تھی جس نے ایک بچے کو جنم دیا ہم اس کنیز پر تہمت عائد کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کے آؤ جب وہ لوگ اس بچے کو لے کے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا : اس بچے کو وراثت ملے گی لیکن تم اس سے پردہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد بن ابوشیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد بن ابوشیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7853
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ادَّعَى نَصْرُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ السُّلَمِيُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقَامَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقَالَ : مَوْلَايَ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ مَوْلَايَ ، وَقَالَ نَصْرٌ : أَخِي أَوْصَانِي بِمَنْزِلِهِ قَالَ : فَطَالَتْ خُصُومَتُهُمْ ، فَدَخَلُوا مَعَهُ عَلَى مُعَاوِيَةَ - وَفِهْرٌ تَحْتَ رَأْسِهِ - فَادَّعَيَا ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . ¤ قَالَ نَصْرٌ : فَأَيْنَ قَضَاؤُكَ هَذَا يَا مُعَاوِيَةُ فِي زِيَادٍ ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ قَضَاءِ مُعَاوِيَةَ ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ لَا يُجِيبُ نَصْرًا إِلَى مَا يَدَّعِي ، فَقَالَ نَصْرٌ : ¤ أَبَـا خَـالِدٍ خُذْ مِثْلَ مَالِي وِرَاثَةً وَخُذْنِي أَخًا عِنْدَ الْهَزَاهِزِ شَاهِدَا ¤ أَبَـا خَـالِدٍ مَـالِي ثَرَاءٌ وَمَنْصِبٌ سَبْـيٌ وَأَعْرَاقٌ تَهُزُّكَ صَـاعِدَا ¤ أَبَـا خَـالِدٍ لَا تَجْعَـلَنَّ بَنَـاتِنَـا إِمَـاءً لِمَخْزُومٍ وَكُـنَّ مَوَاجِدَا ¤ أَبَا خَالِدٍ إِنْ كُنْتَ تَخْشَى ابْنَ خَالِدٍ فَلَمْ يَكُنِ الْحَجَّاجُ يَرْهَبُ خَالِدَا ¤ أَبَـا خَـالِدٍ لَا نَحْنُ نَـارٌ وَلَا هُمُ جِنَانٌ تَرَى فِيهَا الْعُيُونَ رَوَاكِدَا ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نصر بن حجاج بن علاط سلمی نے سیدنا خالد بن ولید کے غلام عبداللہ بن رباح کے بارے میں دعوی کر دیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن اٹھے اور بولے : یہ میرا غلام ہے جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے نصر بن حجاج نے کہا: یہ میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھے تلقین کی تھی راوی کہتے ہیں : جب ان دونوں کا جھگڑا زیادہ ہو گیا تو یہ اس کو ساتھ لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جن کے سر کے نیچے ایک پتھر موجود تھا ، اُن دونوں نے اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بچہ فراش والے کو ملتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے “ ۔ اس پر نصر بن حجاج نے کہا: اے معاویہ ! پھر زیاد کے بارے میں آپ نے یہ فیصلہ کیوں نہیں دیا ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کا فیصلہ ، معاویہ کے فیصلے سے بہتر ہے عبداللہ بن رباح نے نسر بن حجاج کے دعوے کا کوئی جواب نہیں دیا تو نصر نے یہ اشعار کہے : ” اے ابوخالد ! میرے مال جتنا ( مال ) وراثت کے طور پر لے لو ، اور مجھے میرا بھائی دیدو ، جو آزمائشوں کے وقت گواہ ہے ، اے ابوخالد میرا مال عمدہ ہے ، اور میرا منصب بہترین ہے اور ایسی رگیں ہیں جو تمہیں آگے چل کر ہلاتی رہیں گی ، اے ابوخالد تم ہماری بیٹیوں کو مخزوم کی کنیزیں نہ بنوا دینا ، ورنہ وہ پریشان ( یا غصہ ) ہو جائیں گی ، اے ابوخالد ! اگر تم ابن خالد سے ڈرتے ہو ، تو حجاج نے خالد کو بھگایا نہیں ہے ، اے ابوخالد ! نہ تو ہم آگ ہیں اور نہ ہی وہ ( ایسے ) باغات ہیں ، جن میں ٹھہرے ہوئے چشمے نظر آتے ہوں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7854
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ السَّعْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَالَ دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ : وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عباد سعدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے داؤد بن شبیب کہتے ہیں : وہ نیک لوگوں میں سے تھے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عباد سعدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے داؤد بن شبیب کہتے ہیں : وہ نیک لوگوں میں سے تھے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7855
وَعَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، وَنَحْنُ نَرْفَعُ غُصْنَ الشَّجَرَةِ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِي وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِي ، لَعَنَ اللَّهُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، الْوَلَدُ [ لِصَاحِبِ ] الْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، لَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غدیر خم کے دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم آپ کے سر سے درخت کی ٹہنیاں ہٹا رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک میرے لئے ، اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر بھی لعنت کرے جو اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی اور وارث کے لئے وصیت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان حضرمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان حضرمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7856
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچہ فراش والے کو ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7857
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ جَعَلَ لِابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ الْمِيرَاثَ لِأَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ زَمْعَةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو وراثت دی تھی کیونکہ وہ زمعہ کے فراش پر پیدا ہوا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7858
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 7859
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : إِنِّي لَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ ، وَإِنَّ زَبَدَ نَاقَتِهِ لَيَقَعُ عَلَى ظَهْرِي ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَدُّوا إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، أَوِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حج اکبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھا آپ کی اونٹنی کا جھاگ میرے اوپر گر رہا تھا میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ہر حق دار کو اس کا حق ادا کر دو بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی جو شخص اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے یا اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کا دعوی کرے اس پر اللہ تعالی فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 7860
وَعَنْ وَائِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَلَيْسَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَنْتَهِكَ شَيْئًا مِنْ مَالِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَنَاحٌ مَوْلَى الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچہ فراش والے کو ملے گا زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی عورت کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ کرے البتہ اپنے شوہر کی اجازت کے ساتھ وہ ایسا کر سکتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جناح ہے جو ولید کا غلام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جناح ہے جو ولید کا غلام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7861
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ، قَالَ : لَوْ دَعَوْتَنِي إِلَى حَبَشِيٍّ لَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : عَرَّضْتَنِي ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْتَرِيحَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا باپ حذافہ ہے بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی انہوں نے عرض کی : اگر آپ نے میرے نسب کی نسبت کسی حبشی شخص کی طرف کی ہوتی ، تو میں نے اس کے پیچھے چلے جانا تھا بعد میں ان کی والدہ نے کہا: تم نے مجھے نشانہ بنایا تھا انہوں نے کہا: میں یہ چاہتا تھا کہ میں اطمینان حاصل کر لوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔