حدیث نمبر: 7841
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتَ مَعَ أُمِّ رُومَانَ رَجُلًا مَا كُنْتَ صَانِعًا بِهِ ؟ " قَالَ : كُنْتُ فَاعِلًا بِهِ شَرًّا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُمَرُ أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتَ رَجُلًا مَا كُنْتَ صَانِعًا ؟ " قَالَ : كُنْتُ وَاللَّهِ قَاتِلَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ يَا سُهَيْلُ بْنَ بَيْضَاءَ ؟ " قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْأَبْعَدَ فَهُوَ خَبِيثٌ وَلَعَنَ اللَّهُ الْبُعْدَى فَهِيَ خَبِيثَةٌ ، وَلَعَنَ اللَّهُ أَوَّلَ الثَّلَاثَةِ ذَكَرَهُ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ بَيْضَاءَ تَأَوَّلْتَ الْقُرْآنَ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ إِلَى آخَرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم ام رومان کے ساتھ کسی شخص کو پاتے ہو ، تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا: میں اس کے ساتھ برا سلوک کروں گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمر ! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ اگر تم کسی شخص کو پاتے ہو ، تو تم کیا کرو گے ۔ انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں اس شخص کو قتل کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سہیل بن بیضاء ! تم کیا کرو گے ۔ انہوں نے عرض کہا: اللہ تعالیٰ اس نالائق پر لعنت کرے کیونکہ وہ خبیث ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس نالائق عورت پر لعنت کرے کیونکہ وہ خبیث عورت ہے ، تو اللہ تعالیٰ تینوں میں سے پہلے پر لعنت کرے جس نے اس کا ذکر کیا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن بیضاء ! تم نے قرآن کے اس حکم پر عمل کیا ہے : ” وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7841
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف