عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ) لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَوِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا ؟ قَالَ : " لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَاحِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور حاملہ عورتوں کی عدت ختم ہونے کی مدت یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنم دیدیں “ ۔ ( میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : ) یہ حکم تین طلاق یافتہ عورت کے لئے ہے ؟ یا بیوہ کے لئے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تین طلاق یافتہ عورت کے لئے بھی ہے ، اور بیوہ کے لئے بھی ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7806
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (116/5)»
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : نَازَعَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَهِيَ حَامِلٌ ، فَقُلْتُ : تُزَوَّجُ إِذَا وَضَعَتْ ، فَقَالَتْ أُمُّ الطُّفَيْلِ أُمُّ وَلَدِي لِعُمَرَ وَلِي : قَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ أَنْ تَنْكِحَ إِذَا وَضَعَتْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ لَمْ يُدْرِكْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیوہ حاملہ عورت کے بارے میں مجھ سے اختلاف ہو گیا میں نے کہا: جب وہ بچے کو جنم دے گی ، تو اس کی شادی کی جا سکتی ہے ، تو میری اُم ولد ام طفیل نے مجھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ کو یہ ہدایت کی تھی جب سبیعہ اسلمیہ نے بچے کو جنم دیدیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ نکاح کر لے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ، البتہ بسر بن سعید نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7807
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (375/6)»
وَعَنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ امْرَأَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّهَا سَمِعَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَخْتَصِمَانِ ، فَقَالَتْ أُمُّ الطُّفَيْلِ : أَفَلَا يَسْأَلُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ ؟ ! تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ ، فَوَضَعَتْ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَيَّامٍ ، فَأَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ أَتَمَّ مِنْهُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ( یا اُم ولد ) ہیں وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بحث کرتے ہوئے سنا تو سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سبیعہ سلمیہ سے کیوں دریافت نہیں کر لیتے جس کے شوہر کا اس وقت انتقال ہوا تھا جب وہ حاملہ تھی اور اس کے کچھ دن بعد اس نے بچے کو جنم دیدیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی شادی کروا دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ یث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (375/6)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ : كَأَنَّكِ تُحَدِّثِينَ نَفْسَكِ بِالْبَاءَةِ ؟ مَا لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَنْقَضِيَ أَبْعَدُ الْأَجَلَيْنِ ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ ، إِذَا أَتَاكِ أَحَدٌ تَرْضَيْنَهُ فَأْتِي بِهِ " أَوْ قَالَ : " فَأْتِينِي " فَأَخْبَرَهَا أَنَّ عِدَّتَهَا قَدِ انْقَضَتْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سبیعہ اسلمیہ بنت حارث نے اپنے شوہر کی وفات کے پندرہ دن بعد حمل کو جنم دیدیا ابوسنابل نامی صاحب اس خاتون کے پاس آئے ، اور بولے : تم شاید دوبارہ شادی کرنے کی تیاری کر رہی ہو ، تمہیں اس کا اختیار نہیں ہے ، جب تک وہ مدت پوری نہیں ہوتی جو بعد میں پوری ہو گی وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ابوسنابل نے جو کچھ کہا: تھا اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوسنابل نے غلط کہا: ہے ، جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کے رشتے سے تم راضی ہو ، تو تم میرے پاس آ جانا ، یا تم میرے پاس اس کی اطلاع لے آنا ) ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ بتایا کہ اس کی عدت ختم ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4273)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ بِنْتَ الْحَارِثِ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَوْ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : " إِذَا أَتَاكِ كُفُؤٌ فَأْتِينِي أَوِ أَنْبِئِينِي بِهِ " . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبیداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ سبیعہ اسلمیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : ” جب تمہارے لیے مناسب رشتہ آئے ، تو تم میرے پاس آنا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم اس کے بارے میں مجھے بتانا “ ۔ اس میں راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4074)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : طُلِّقَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَكَثَتْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ وَضَعَتْ حَمْلَهَا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ : " اسْتَفْلِحِي بِأَمْرِكِ " ، أَيْ تَزَوَّجِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، [ وَ ] رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک خاتون کو طلاق دیدی گئی بیس دن گزرنے کے بعد اس نے اپنے حمل کو جنم دیدیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے معاملے میں بہتری تلاش کرو ! یعنی تم شادی کر لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1882)»
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ، البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7812
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1716)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ عِدَّةَ بَرِيرَةَ عِدَّةَ الْحُرَّةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَابِ تَخْيِيرِ الْأَمَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کی عدت آزاد عورت کی عدت قرار دی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ربیع ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس سے پہلے ابوبکر ( نامی راوی ) کے حوالے سے منقول حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے گزر چکی ہے جو کنیز کو اختیار دینے کے بارے میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1518) اخرجه ابو يعلى فى المسند (4921)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نُهِيَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا عَنِ الطِّيبِ وَالزِّينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : بیوہ عورت کو خوشبو لگانے اور زینت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7814
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11451)»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا طُلِّقَتْ ، وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّ الْحَيْضَةَ قَدْ أَدْبَرَتْ عَنْهَا ، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ ذَلِكَ أَنَّهَا تَنْتَظِرُ سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فِيهَا اعْتَدَّتْ بَعْدَ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ، فَإِنْ حَاضَتْ فِي الثَّلَاثَةِ أَشْهُرٍ [ اعْتَدَّتْ بِالْحَيْضِ ، وَإِنْ حَاضَتْ ] وَلَمْ يَتِمَّ حَيْضُهَا بَعْدَمَا اعْتَدَّتْ تِلْكَ الثَّلَاثَةَ الْأَشْهُرِ الَّتِي بَعْدَ السَّنَةِ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَعْلَمَ أَتَمَّ حَيْضُهَا أَمْ لَا ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَصْحَابُ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کسی عورت کو طلاق دیدی جائے ، اور اس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اب اس کا حیض آنا بند ہو گیا ہے ، اور یہ چیز اس کی طرف سے واضح نہ ہو ، تو وہ ایک سال تک انتظار کرے گی اگر اس دوران اسے حیض نہیں آتا تو وہ ایک سال گزرنے کے بعد مزید تین ماہ تک عدت گزرے گی اگر ان تین ماہ کے دوران اسے حیض آ جاتا ہے ، تو پھر وہ حیض کے حساب سے عدت گزارے گی لیکن اگر اسے حیض آیا تھا ، اور وہ حیض مکمل نہیں ہوا اور یہ ایک سال گزرنے کے بعد تین ماہ گزرنے کے بعد ہوا تو پھر وہ عورت اپنے بارے میں جلدی نہیں کرے گی جب تک وہ یہ نہیں جان لیتی کہ اس کا حیض مکمل ہوا یا نہیں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عبدالکریم جزری کا معامل مختلف ہے وہ یہ کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے یہ بات بیان کی ہے ، اور انہوں نے ان شاگردوں میں سے کسی کا نام بیان نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7815
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9623)»