کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کنیز جب آزاد ہو جائے ، اور وہ کسی غلام کی بیوی ہو تو اسے ( شوہر سے علیحدگی ) کا اختیار دینا
حدیث نمبر: 7801
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا عُتِقَتِ الْأَمَةُ فَهِيَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَطَأْهَا ، إِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ وَإِنْ وَطِئَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا ، وَلَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا هَكَذَا وَمُرْسَلًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، وَفِي الْمُتَّصِلِ الْفَضْلُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ وَابْنُ لَهِيعَةَ حَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن امیہ بیان کرتے ہیں : میں نے کچھ افراد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب کسی کنیز کو آزاد کر دیا جائے ، تو اسے اختیار ہو گا ، جب تک اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت نہیں کرتا اگر وہ چاہے گی ، تو شوہر سے علیحدگی اختیار کر لے گی اگر شوہر نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ، تو پھر عورت کے لئے اختیار نہیں رہے گا پھر وہ شوہر سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور ایک سند کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ متصل روایت کی سند میں ایک راوی فضل بن عمرو بن امیہ ہے ، اور وہ مستور ہے ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7801
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (378/5)»
حدیث نمبر: 7802
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا قَالَ : فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ ، قَالَ : فَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ : قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِدَّةَ الْحُرَّةِ ، قَالَ : وَتَصَدَّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس خاتون کے پیچھے جا رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے بارے میں چار فیصلے دیے تھے آپ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے آپ نے اس خاتون کو اختیار دیا تھا ، اور اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ آزاد عورت کی مانند عدت گزارے گی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کہ ایک مرتبہ اس خاتون کو صدقہ کے طور پر کوئی چیز دی گئی اس نے اس چیز میں سے کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تحفے کے طور پر دیدیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس کے لئے صدقہ تھا ، اور ہمارے لئے ہدیہ کے طور پر ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7802
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2542,3405)»
حدیث نمبر: 7803
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَتَعْتِقَهَا فَقَالَ مَوَالِيهَا : لَا ، إِلَّا أَنْ تَجْعَلِي لَنَا الْوَلَاءَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، إِنَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ " . ¤ قَالَ : وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ يُدْعَى مُغِيثًا لِبَنِي الْمُغِيرَةِ ، وَجَعَلَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخِيَارَ . ¤ قَالَ : وَحَدَّثَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ عِدَّتَهَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ ارادہ کیا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر اسے آزاد کر دیں ، تو اس کے آقاؤں نے کہا: جی نہیں آپ کو ولاء کا حق ہمارے لئے رہنے دینا ہو گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے وہ ایسی شرائط طے کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے جو شخص کوئی ایسی شرط طے کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو ، تو وہ ( شرط ) باطل ( یعنی کالعدم ) شمار ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون ایک غلام کی بیوی تھی جن کا نام مغیث تھا وہ بنومغیرہ کے غلام تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اختیار دیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی عدت آزاد عورت کی عدت کی مانند قرار دی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7803
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11744)»
حدیث نمبر: 7804
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنْ عُتِقَتْ عِنْدَ عَبْدٍ فَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ ، وَلَمْ تَخْتَرْ حَتَّى عُتِقَ زَوْجُهَا أَوْ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ تَمُوتَ تَوَارَثَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ - وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَهُوَ الْكَرِيمُ الْوَهَّابُ ، وَهُوَ مُعْتِقُ الرِّقَابِ وَفَاتِحُ الْأَبْوَابِ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر کنیز کسی غلام کی بیوی ہو اور اسے آزاد کر دیا جائے ، اور کنیز کو یہ علم نہ ہو کہ اس کو علیحدگی کا اختیار کا ہے ، اور پھر وہ ( علیحدگی کو ) اختیار نہ کرے یہاں تک کہ اس کے شوہر کو آزاد کر دیا جائے یا اس کا شوہر انتقال کر جائے یا وہ کنیز انتقال کر جائے ( تو ان تمام صورتوں میں ) وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث بنیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں باقی اللہ تعالیٰ درست بات کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے وہ کرم کرنے والا ہے بہت عطا کرنے والا ہے گردنوں کو آزاد کروانے والا ہے دروازوں کو کھولنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7804
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9680)»
حدیث نمبر: 7805
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْأَمَةِ تُبَاعُ وَلَهَا زَوْجٌ قَالَ : بَيْعُهَا طَلَاقُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کنیز کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : اگر اسے فروخت کر دیا جائے ، اور اس کا شوہر موجود ہو ، تو وہ فرماتے ہیں : اس کو فروخت کرنا اس کی طلاق شمار ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7805
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9682 و 9683)»