کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: عدت گزارنے والی عورت کا اپنے گھر سے منتقل ہو جانا ، یا باہر نکلنا
حدیث نمبر: 7816
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ : " انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ، وَلَا تَفُوتِينَا بِنَفْسِكِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ ( نامی خاتون ) سے یہ فرمایا تھا : تم ام شریک کے گھر منتقل ہو جاؤ اور اپنی ذات کے حوالے سے ہمیں فوت نہ کرنا ( یعنی تم ہم سے رابطہ رکھنا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 7817
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالَتِهِ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى نَخْلٍ لَهَا لِتَجُدَّهُ ، فَقَالَ لَهَا رَجُلٌ : لَيْسَ ذَلِكَ لَكِ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اخْرُجِي وَجِدِّي نَخْلَكِ ، لَعَلَّكِ أَنْ تَصَّدَّقِي أَوْ تَصْنَعِي مَعْرُوفًا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ نَفْسِهِ ، وَهُنَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ خَالَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنی خالہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( کہ وہ عدت گزار رہی تھیں ) انہوں نے گھر سے نکل کر اپنی کھجوروں کے باغ میں جانے کا ارادہ کیا تھا تاکہ اس کی دیکھ بھال کریں ایک شخص نے ان سے کہا: تمہیں اس بات کا حق حاصل نہیں ہے وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم گھر سے نکلو اور اپنے کھجور کے باغ کی دیکھ بھال کرو ! ہو سکتا ہے کہ تم اسے صدقہ کر دو یا کسی اور اچھائی کے کام میں استعمال کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے ، اور یہاں یہ ان کی خالہ سے منقول روایت کے طور پر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت صحیح میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے ، اور یہاں یہ ان کی خالہ سے منقول روایت کے طور پر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7818
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : سَأَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ نِسَاءً مِنْ هَمْدَانَ نَعَى إِلَيْهِنَّ أَزْوَاجَهُنَّ ، فَقُلْنَ : إِنَّا نَسْتَوْحِشُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : يَجْتَمِعْنَ بِالنَّهَارِ ثُمَّ تَرْجِعُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ إِلَى بَيْتِهَا بِاللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے ہمدان کی خواتین کے بارے میں دریافت کیا : جنہیں ان کے شوہروں کے انتقال کی اطلاع مل گئی تھی ، ان خواتین نے کہا: ہمیں تنہائی میں وحشت محسوس ہوتی ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ دن کے وقت اکٹھی ہو سکتی ہیں پھر رات کے وقت ان میں سے ہر ایک اپنے گھر واپس چلی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7819
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى فِي وَقْعَةِ أَوَطَاسَ أَنْ يَقَعَ الرَّجُلُ عَلَى حَامِلٍ حَتَّى تَضَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَكِلَاهُمَا مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ اوطاس کے واقعہ میں آپ نے اس بات سے منع کر دیا تھا کہ کوئی شخص حاملہ عورت کے ساتھ صحبت کرے جب تک وہ بچے کو جنم نہیں دیدیتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ اور ایک راوی حجاج بن ارطاق ہے ، اور یہ دونوں مدلس ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ اور ایک راوی حجاج بن ارطاق ہے ، اور یہ دونوں مدلس ہیں ۔
حدیث نمبر: 7820
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ عَنْ بَيْعِ الْخُمُسِ حَتَّى يُقَسَّمَ ، وَعَنْ أَنْ تُوطَأَ النِّسَاءُ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ إِذَا كُنَّ حَبَالَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقوع پر تقسیم سے پہلے خمس کو فروخت کرنے سے منع کر دیا تھا ، اور خواتین کے ساتھ صحبت کرنے سے منع کر دیا تھا جب تک وہ اپنے پیٹ میں موجود بچوں کو جنم نہیں دیدیتی ہیں ، جبکہ وہ حاملہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن متوکل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن متوکل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔