وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا طُلِّقَتْ ، وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّ الْحَيْضَةَ قَدْ أَدْبَرَتْ عَنْهَا ، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ ذَلِكَ أَنَّهَا تَنْتَظِرُ سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فِيهَا اعْتَدَّتْ بَعْدَ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ، فَإِنْ حَاضَتْ فِي الثَّلَاثَةِ أَشْهُرٍ [ اعْتَدَّتْ بِالْحَيْضِ ، وَإِنْ حَاضَتْ ] وَلَمْ يَتِمَّ حَيْضُهَا بَعْدَمَا اعْتَدَّتْ تِلْكَ الثَّلَاثَةَ الْأَشْهُرِ الَّتِي بَعْدَ السَّنَةِ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَعْلَمَ أَتَمَّ حَيْضُهَا أَمْ لَا ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَصْحَابُ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کسی عورت کو طلاق دیدی جائے ، اور اس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اب اس کا حیض آنا بند ہو گیا ہے ، اور یہ چیز اس کی طرف سے واضح نہ ہو ، تو وہ ایک سال تک انتظار کرے گی اگر اس دوران اسے حیض نہیں آتا تو وہ ایک سال گزرنے کے بعد مزید تین ماہ تک عدت گزرے گی اگر ان تین ماہ کے دوران اسے حیض آ جاتا ہے ، تو پھر وہ حیض کے حساب سے عدت گزارے گی لیکن اگر اسے حیض آیا تھا ، اور وہ حیض مکمل نہیں ہوا اور یہ ایک سال گزرنے کے بعد تین ماہ گزرنے کے بعد ہوا تو پھر وہ عورت اپنے بارے میں جلدی نہیں کرے گی جب تک وہ یہ نہیں جان لیتی کہ اس کا حیض مکمل ہوا یا نہیں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عبدالکریم جزری کا معامل مختلف ہے وہ یہ کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے یہ بات بیان کی ہے ، اور انہوں نے ان شاگردوں میں سے کسی کا نام بیان نہیں کیا ۔