وَعَنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ امْرَأَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّهَا سَمِعَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَخْتَصِمَانِ ، فَقَالَتْ أُمُّ الطُّفَيْلِ : أَفَلَا يَسْأَلُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ ؟ ! تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ ، فَوَضَعَتْ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَيَّامٍ ، فَأَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ أَتَمَّ مِنْهُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ( یا اُم ولد ) ہیں وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بحث کرتے ہوئے سنا تو سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سبیعہ سلمیہ سے کیوں دریافت نہیں کر لیتے جس کے شوہر کا اس وقت انتقال ہوا تھا جب وہ حاملہ تھی اور اس کے کچھ دن بعد اس نے بچے کو جنم دیدیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی شادی کروا دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ یث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔