عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُنْكَحُ النِّسَاءُ إِلَّا مِنَ الْأَكْفَاءِ ، وَلَا يُزَوَّجَهُنَّ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ ، وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خواتین کی شادی صرف کفو میں کی جائے ، اور ان کی شادی صرف اولیاء کریں ، اور دس درہم سے کم مہر نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيٍّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو يَعْقُوبُ غَيْرُ مُسَمَّى ، فَإِنْ كَانَ هُوَ التَّوْأَمَ ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے ، اس کا نکاح باطل ہوتا ہے ، اس کا نکاح باطل ہوتا ہے ، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا ، اور سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویعقوب ہے ( جس کی کنیت ذکر ہوئی ہے اور ) اس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ، اگر تو یہ ” توام “ ہے ، تو ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویعقوب ہے ( جس کی کنیت ذکر ہوئی ہے اور ) اس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ، اگر تو یہ ” توام “ ہے ، تو ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس عورت کے ساتھ ، اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے ، تو اس عورت کا نکاح باطل شمار ہو گا ، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ہو ، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا ، لیکن ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی ، اور اگر مرد نے اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی ، تو پھر ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی ، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : " وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، اگر ( اولیاء کا ) باہمی طور پر اختلاف ہو جائے ، تو سلطان اُس کا ولی ہو گا ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان رقی ہے ، وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان رقی ہے ، وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيٍّ مُرْشِدٍ أَوْ سُلْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رہنمائی کرنے والے ( یعنی سمجھدار ، یا مخلص ) ولی ، یا سلطان کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کا نکاح ، ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيِّ وَشَاهِدَيْنِ وَمَهْرٍ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولی ، دو گواہوں ، اور مہر کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، خواہ وہ ( مہر ) کم ہو یا زیادہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَغَايَا اللَّاتِي يُزَوِّجْنَ أَنْفُسَهُنَّ ، لَا يَجُوزُ نِكَاحٌ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْنِ وَمَهْرٍ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” فاحشہ عورتیں ، اپنی شادی خود کرتی ہیں ، ولی ، دو گواہوں اور مہر کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا ، خواہ وہ ( مہر ) کم ہو یا زیادہ ہو “ ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرٍ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَاسِطِيُّ الْكَبِيرُ فَهُوَ ثِقَةٌ وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، محمد بن عبدالملک کے حوالے سے ابوزبیر سے نقل کی ہے ، اگر تو یہ واسطی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ وہ نہیں ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، محمد بن عبدالملک کے حوالے سے ابوزبیر سے نقل کی ہے ، اگر تو یہ واسطی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ وہ نہیں ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر ، نکاح نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيِّ وَشَاهِدَيْنِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلَهُ : " وَشَاهِدَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَشُهُودٍ " . وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولی اور دو گواہوں کے بغیر ، نکاح نہیں ہوتا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور دو گوا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور گوا ہوں“ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور دو گوا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور گوا ہوں“ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر ، نکاح نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرز ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرز ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَيْسَ لِلنِّسَاءِ مِنْ عُقْدَةِ النِّكَاحِ شَيْءٌ جَعَلَتْ مَيْمُونَةُ أَمْرَهَا إِلَى أُمِّ الْفَضْلِ فَجَعَلَتْهُ أُمُّ الْفَضْلَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَأَنْكَحَهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ مَيْمُونَةَ فَجُعِلَ أَمْرُهَا إِلَى الْعَبَّاسِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : خواتین کو نکاح کروانے کے معاملے میں کوئی حق نہیں ہے ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما نے اپنا معاملہ ( اپنی بہن ) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا تھا ، اور سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے اسے ( اپنے شوہر ) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی شادی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا ، تو ان کی شادی کا معاملہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا ، تو ان کی شادی کا معاملہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا “ ۔