کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: گواہوں کے بغیر نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 7527
عَنْ كَرْدَمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَلَيَّ حِذَاءٌ ، وَلَا حِذَاءَ لَهُ فَقَالَ : أَعْطِنِي نَعْلَكَ . فَقُلْتُ : لَا إِلَّا أَنْ تُزَوِّجَنِي ابْنَتَكَ ! قَالَ : أَعْطِنِي ، فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا . فَلَمَّا انْصَرَفْنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِنَعْلِي وَقَالَ : لَا زَوْجَةَ لَكَ عِنْدِي . فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " دَعْهَا لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ ذَوْدًا مِنْ ذَوْدِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ لَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کردم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے چچازاد جن کا نام ابوثعلبہ تھا ، ہم ایک گرم دن میں ( سفر پر ) نکلے میں نے جوتے پہنے ہوئے تھے اور ان کے پاس جوتے نہیں تھے ، انہوں نے کہا: تم اپنے جوتے مجھے دے دو ! میں نے کہا: جی نہیں ! البتہ اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کریں گے ( تو میں دے دوں گا ) انہوں نے کہا: تم مجھے دے دو ! میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی ، جب ہم واپس آئے ، تو انہوں نے میرے جوتے مجھے بھجوا دیے اور کہا: تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے ، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس عورت کو چھوڑ دو ! تمہارے لئے اس میں بہتری نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک نذر مانی تھی کہ میں فلاں ، فلاں جگہ پر اپنا اونٹ قربان کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی نذر کو پورا کر دو ! قطع رحمی کے بارے میں اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ، اس کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (191/19)»
حدیث نمبر: 7528
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَلَقِيتُهُ ، وَكَلَّمْتُهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : " نُوَيْبِتَةٌ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ ؟ قَالَ : " لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ فَقَالَ : أَعِرْنِي حِذَاءَكَ فَقُلْتُ : لَا أُعِيرُكَهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ قَالَ : قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ : لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي اللُّقَطَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن رویم لخمی ، سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے ان سے ملاقات بھی کی ہے اور ان سے بات چیت بھی کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : چھوٹا معاملہ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھلائی کا چھوٹا معاملہ یا خرابی کا چھوٹا معاملہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ بھلائی کا چھوٹا معاملہ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں سفر پر اپنے چچا کے ساتھ روانہ ہوا ، انہیں جوتوں کی ضرورت پیش آئی ، تو انہوں نے مجھے کہا: تم جو تے عاریت کے طور پر مجھے دے دو ، میں نے کہا: میں یہ آپ کو عاریت کے طور پر نہیں دوں گا ، اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کرتے ہیں ( تو پھر دے دوں گا ) انہوں نے کہا: میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی جب ہم اپنے گھر واپس پہنچے ، تو انہوں نے مجھے میرے جوتے بھجوا دیے اور بولے : تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لئے اس عورت میں بھلائی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے گمشدہ چیز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ یزید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7528
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف