مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ . باب: ولی اور گواہوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس عورت کے ساتھ ، اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے ، تو اس عورت کا نکاح باطل شمار ہو گا ، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ہو ، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا ، لیکن ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی ، اور اگر مرد نے اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی ، تو پھر ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی ، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے ۔