مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ . باب: ولی اور گواہوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيٍّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو يَعْقُوبُ غَيْرُ مُسَمَّى ، فَإِنْ كَانَ هُوَ التَّوْأَمَ ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے ، اس کا نکاح باطل ہوتا ہے ، اس کا نکاح باطل ہوتا ہے ، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا ، اور سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویعقوب ہے ( جس کی کنیت ذکر ہوئی ہے اور ) اس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ، اگر تو یہ ” توام “ ہے ، تو ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔