کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اولاد پیدا کرنے والی عورت کے ساتھ شادی کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " انْكِحُوا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ ، فَإِنِّي أُبَاهِي بِهِمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حُيَيْ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورتوں کے ساتھ نکاح کرو ! کیونکہ قیامت کے دن ، میں دیگر امتوں کے سامنے اُن لوگوں پر فخر کروں گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ معافری ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6598)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ : " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے تھے اور کنوارے رہنے سے منع کرتے تھے ، اور یہ حکم دیتے تھے : محبت کرنے والی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورتوں کے ساتھ شادی کرو ، کیونکہ قیامت کے دن میں دیگر انبیاء کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7339
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (158/3)»
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عِيَاضُ لَا تَزَوَّجَنَّ عَجُوزًا ، وَلَا عَاقِرًا ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے عیاض ! تم کسی بوڑھی ، یا بانجھ عورت کے ساتھ شادی نہ کرنا ، میں دیگر امتوں کے سامنے تم لوگوں کی کثرت پر فخر کروں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7340
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (368/17)»
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَوْدَاءُ وَلُودٌ خَيْرٌ مِنْ حَسْنَاءَ لَا تَلِدُ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُؤْتَى بِالسِّقْطِ مُحْبَنْطِئًا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَأَبَوَايَ ؟ فَيُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ أَنْتَ ، وَأَبَوَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی سیاہ فام عورت ، ایسی خوبصورت عورت سے زیادہ بہتر ہے ، جو اولاد پیدا نہیں کر سکتی قیامت کے دن میں دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ، یہاں تک کہ ( قیامت کے دن ) دنیا میں مردہ پیدا ہونے والے بچے کو لایا جائے گا ، اُسے جنت کے دروازے پر لایا جائے گا اور یہ کہا: جائے گا : تم جنت میں داخل ہو جاؤ ! تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! اور میرے ماں باپ بھی ؟ تو اس سے کہا: جائے گا : تم اور تمہارے ماں باپ جنت میں داخل ہو جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7341
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (416/19)»
وَعَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدَعُ أَحَدُكُمْ طَلَبُ الْوَلَدِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ وَلَدٌ انْقَطَعَ اسْمُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” تم میں سے کوئی ایک شخص اولاد کی طلب کو ترک نہ کرے ، کیونکہ جب آدمی مر جاتا ہے اور اس کی اولاد نہ ہو ، تو اس کا نام منقطع ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7342
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (210/23)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ يُرَبِّيَ أَحَدُكُمْ بَعْدَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً جَرْوَ كَلْبٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَ وَلَدًا لِصُلْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السِّمْطُ وَصَالِحُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چون سال کا ہو جانے کے بعد ، اگر کوئی شخص کتے کے پلے کو پال پوس لے یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنے سگے بیٹے کو پالے پوسے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سمط اور ایک راوی صالح بن علی بن عبداللہ بن عباس ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7343
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10685)»