عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پڑوسی ، اپنے قرب ( یعنی پڑوس ) کا زیادہ حق دار ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ التَّمَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پڑوسی ، اپنے قرب ( یعنی پڑوس ) کا زیادہ حق رکھتا ہے ، خواہ وہ جو بھی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن کثیر تمار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن کثیر تمار ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ بَاعَ قِطْعَةً أَقْطَعُهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ دَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِثَمَانِيَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ : وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ سَبَقَهُ بِهَا قَبْلُ ، فَأَعْطَاهُ بِهَا عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ ، فَأَبَيْتُ أَنْ يَبْتَعَ مِنْهُ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَهْلُ الرَّكْحِ أَحَقُّ بِرَكْحِهِمْ " . وَكَانَ سَعْدٌ أَسْقَبَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ لَفْظِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَسَنِ الرَّافِعِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک قطعہ اراضی فروخت کیا ، جو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگیر کے طور پر عطا کیا تھا ، وہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس تھا ، وہ انہوں نے آٹھ ہزار درہم کے عوض میں فروخت کیا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ اس سے پہلے ایک شخص انہیں پیش کش کر چکا تھا ، وہ انہیں اس کے دس ہزار درہم دے رہا تھا ، لیکن میں نے اس کو اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” گھر کے پچھلے کنارے کی طرف کے لوگ اپنے پچھلے کنارے کے بارے میں زیادہ حق رکھتے ہیں “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ( اُن کے سب سے زیادہ ) قریبی ( پڑوسی ) تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں ان الفاظ کے علاوہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسن رافعی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسن رافعی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : أَنْشَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ مِائَةَ قَافِيَةٍ كُلَمَّا مَرَرْتُ بِبَيْتٍ قَالَ : " هِيهِ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْأُمَوِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ وَقَالَ : يَنْفَرِدُ عَنِ الثِّقَاتِ بِالْمَوْضُوعَاتِ . عَلَى أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ قَدْ صَحَّ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ بن ابوصلت کے ایک سو اشعار سنائے ، جب بھی میں آپ کو کوئی شعر سناتا ، تو آپ فرماتے : اور سناؤ ! آپ نے اسی محفل میں یہ بات ارشاد فرمائی : ” پڑوسی ، اپنے قرب ( یعنی پڑوس ) کا زیادہ حق دار ہوتا ہے “ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید اموی ہے اور وہ متروک ہے ، اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کا ذکر کتاب ” الضعفاء “ میں کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ ثقہ راویوں سے موضوع روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ، اگرچہ یہ حدیث دوسرے حوالوں سے مستند طور پر منقول ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشُّفْعَةِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراکت داروں کے درمیان شفعہ ہونے کا فیصلہ دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَا لَمْ تَقَعِ الْحُدُودُ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، وَكَانَ كَذَّابًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شفعہ ، ہر اس چیز میں واقع ہو گا ، جس میں حدود واقع نہ ہوئی ہوں ، جب حدود واقع ہو جائیں ، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ عمری اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ عمری اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب حدود واقع ہو جائیں ، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبِيُّ عَلَى شُفْعَتِهِ حَتَّى يُدْرِكَ فَإِذَا أَدْرَكَ إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچے کو شفعہ کا حق حاصل رہے گا ، یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہو جائے ، جب وہ بالغ ہو جائے گا ، تو اگر چاہے گا ، تو اسے حاصل کر لے اور اگر چاہے گا ، تو ترک کر دے گا“ ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا شُفْعَةَ لِنَصْرَانِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ نَايِلُ بْنُ نَجِيحٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عیسائی کو شفعہ کا حق نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نایل بن نجیح ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نایل بن نجیح ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔