حدیث نمبر: 6793
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ بَاعَ قِطْعَةً أَقْطَعُهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ دَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِثَمَانِيَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ : وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ سَبَقَهُ بِهَا قَبْلُ ، فَأَعْطَاهُ بِهَا عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ ، فَأَبَيْتُ أَنْ يَبْتَعَ مِنْهُ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَهْلُ الرَّكْحِ أَحَقُّ بِرَكْحِهِمْ " . وَكَانَ سَعْدٌ أَسْقَبَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ لَفْظِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَسَنِ الرَّافِعِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک قطعہ اراضی فروخت کیا ، جو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگیر کے طور پر عطا کیا تھا ، وہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس تھا ، وہ انہوں نے آٹھ ہزار درہم کے عوض میں فروخت کیا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ اس سے پہلے ایک شخص انہیں پیش کش کر چکا تھا ، وہ انہیں اس کے دس ہزار درہم دے رہا تھا ، لیکن میں نے اس کو اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” گھر کے پچھلے کنارے کی طرف کے لوگ اپنے پچھلے کنارے کے بارے میں زیادہ حق رکھتے ہیں “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ( اُن کے سب سے زیادہ ) قریبی ( پڑوسی ) تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں ان الفاظ کے علاوہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسن رافعی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف