عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے میں ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے عوض میں جانور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الدُّورِيَّ ، فَقَدْ وُثِّقَ وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے عوض میں جانور ادھار فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو مقری ہے اگر تو یہ دوری ہے ، تو پھر اس کی توثیق کی گنی ہے اور حدیث صحیح ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے اور تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو مقری ہے اگر تو یہ دوری ہے ، تو پھر اس کی توثیق کی گنی ہے اور حدیث صحیح ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے اور تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَأْخُذُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرِّبَا " الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ. فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِأَفْرَاسٍ ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ ؟ قَالَ : " لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو دیناروں کے عوض میں ایک دینار حاصل نہ کرو دو درہموں کے عوض میں ایک درہم حاصل نہ کرو دو صاع کے عوض میں ایک صاع حاصل نہ کرو مجھے تم لوگوں کے بارے میں سود کا اندیشہ ہو گا یہ سود ہے سود ہے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک شخص کئی گھوڑوں کے عوض میں ایک گھوڑا فروخت کرتا ہے یا ایک عمدہ اونٹنی کو ایک اونٹ کے عوض میں فروخت کر دیتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ دست بدست لین دین ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اور ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اور ثقہ ہے ۔
وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً مُسِنَّةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ وَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الصَّدَقَةِ . فَسَكَتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الصُّنَابِحِيِّ الْأَحْمَسِيِّ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الْإِبِلِ قَالَ : " فَنَعَمْ إِذًا " . ¤ وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک مسنہ اونٹنی ملاحظہ فرمائی تو آپ غصے میں آ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہاں سے آئی ہے ؟ ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے صدقہ کے حواشی میں سے دو اونٹوں کے عوض میں لی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے اونٹوں کے حواشی میں سے دو اونٹوں کے عوض میں لی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر یہ ٹھیک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے اونٹوں کے حواشی میں سے دو اونٹوں کے عوض میں لی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر یہ ٹھیک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ أَنَّهُ قَدِمَ بِإِبِلٍ لَهُ سِمَانٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي زَمَنِ مَحْلٍ ، وَجُدُوبٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَلَمَّا رَآهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَجِبُوا مِنْ سِمَنِهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ بِهَا فَخَرَجَ إِلَيْهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ : " لِمَ جَلَبْتَ إِبِلَكَ هَذِهِ ؟ " . قَالَ : أَرَدْتُ بِهَا خَادِمًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عِنْدَهُ خَادِمٌ ؟ " فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " هَاتِ " فَجَاءَ بِهَا عُثْمَانُ ، فَلَمَّا رَآهَا أَسْوَدُ قَالَ : مِثْلَهَا أُرِيدُ . فَقَالَ : عِنْدِي فَخُذْهَا . فَأَخَذَهَا أَسْوَدُ ، وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِبِلَهُ . قَالَ أَسْوَدُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " تَمْلِكُ لِسَانَكَ " قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْهُ ؟ قَالَ : " فَتَمْلِكُ يَدَكَ " قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي ؟ قَالَ : " فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا ، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ " . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الصَّمْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُخْتٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسود بن اصرم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ قحط سالی اور خشک سالی کے زمانے میں مدینہ منورہ موٹا تازہ اونٹ لے کر آئے جب اہل مدینہ نے انہیں دیکھا تو انہیں اونٹ کی صحت پسند آئی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے اونٹ کا ذکر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پیغام بھیجا وہ آپ کے پاس لائے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ نے ان کا جائزہ لیا اور فرمایا : تم اپنا یہ اونٹ کس لئے لے کے آئے ہو ان صاحب نے عرض کی : میں اس کے عوض میں ایک خادم لینا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس شخص کے پاس خادم موجود ہے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لے کے آؤ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے کے آئے جب اسود نے اس کنیز کو دیکھا تو بولے : میں ایسی ہی چاہتا تھا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے پاس ہے تم اسے لے لو تو سیدنا اسود رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اونٹ لے لیا ۔ سیدنا اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کوئی وصیت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی زبان ق ابومیں رکھنا انہوں نے عرض کی : اگر میں اس پر ق ابونہ رکھ پاؤں تو کس چیز پر ثابت رہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ہاتھ پر ق ابورکھنا ۔ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ پر بھی ق ابونہ رکھ پاؤں تو کس چیز پر ق ابورکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی زبان کے ذریعے صرف بھلائی کی بات کہنا اور اپنا ہاتھ صرف بھلائی کے کام کی طرف بڑھانا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ خاموشی سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بخت ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بخت ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِخْوَةٍ مِنْ كِنْدَةَ كَانُوا عَبِيدًا لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَفَدَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِي خِلَافَتِهِ فَدَعَا أَبُو بَكْرٍ ابْنَ حَمَّالٍ فَطَلَبَ مِنْهُ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةَ الَّذِي يَخْدُمُهُ ، وَيَشْتَرِيَ مِنْهُ إِخْوَتَهُ الَّذِينَ يُحَارِبُ بِسِتَّةٍ مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ ، فَأَعْتَقَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ وَأَخَذَ مَكَانَ إِخْوَتِهِ سِتَّةً مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ قَالَ : وَكَانَتْ وِفَادَةُ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّ الْعُمَّالَ انْتَقَضُوا عَلَيْهِمْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا صَالَحَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحُلَلِ السَّبْعِينَ ، فَأَقَرَّ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مَا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ انْتَقَضَ ذَلِكَ وَصَارَ عَلَى الصَّدَقَةِ . ¤ قُلْتُ : الْمُصَالَحَةُ عَلَى الْحُلَلِ فَقَطْ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے تین بھائیوں کی ملکیت ہونے کے عالم میں اسلام قبول کیا وہ تینوں بھائی زمانہ جاہلیت میں ان کے غلام تھے وہ ایک وفد کی شکل میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے عہد خلافت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس غلام کو آزاد کر دیں جو ان کی خدمت کرتا ہے اور وہ اس غلام کے بھائی کو ان سے قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ غلاموں کے عوض میں خرید لیتے ہیں تو سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا انہوں نے اپنے ساتھ موجود بھائیوں کو آزاد کر دیا اور ان بھائیوں کی جگہ قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ غلام حاصل کر لیے پھر سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ وہ ان اہلکاروں کے سلسلے میں حاضر ہوئے ہیں کہ جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد زیادتی کی ہے اس چیز کے بارے میں جس کے بارے میں سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ستر حلوں کی ادائیگی طے کی تھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس صورت حال کو برقرار رکھا جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برقرار رکھا تھا یہاں تک کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بعد وہ چیز پھر کالعدم ہو گئی اور وہ صدقہ شمار ہوئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حلوں کے عوض میں معاہدہ کرنے والا حصہ امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ : عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ فَحَمَلَتْ ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا يُقَالُ لَهُ : الْحَمَّامُ . وَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمِّي ، وَكَلَّمَهُ فِي ابْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَسَلَّمِ ابْنَكَ مَا اسْتَطَعْتَ " . فَانْطَلَقَ فَأَخَذَ ابْنَهُ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ مَوْلَى الْغُلَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامَيْنِ فَقَالَ : " خُذْ أَحَدَهُمَا وَدَعْ لِلرَّجُلِ ابْنَهُ " فَأَخَذَ غُلَامًا وَتَرَكَ الْآخَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابونعیم بیان کرتے ہیں : اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام عبید بن عمیر تھا انہوں نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کی وہ حاملہ ہو گئی اس نے ان صاحب کے بچے کو جنم دیا جس کا نام حمام رکھا گیا یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کے بارے میں آپ کے ساتھ بات چیت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جہاں تک تم سے ہو سکے تم اپنے بیٹے کو حاصل کرنے کی کوشش کرو وہ صاحب گئے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو لیا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس غلام کا آقا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقا کو دو غلاموں کی پیش کش کی اور فرمایا : تم ان دو میں سے کسی ایک کو لے لو اور اس شخص کے بیٹے کو چھوڑ دو تو اس شخص نے ایک غلام لے لیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔