حدیث نمبر: 6513
وَعَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِخْوَةٍ مِنْ كِنْدَةَ كَانُوا عَبِيدًا لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَفَدَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِي خِلَافَتِهِ فَدَعَا أَبُو بَكْرٍ ابْنَ حَمَّالٍ فَطَلَبَ مِنْهُ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةَ الَّذِي يَخْدُمُهُ ، وَيَشْتَرِيَ مِنْهُ إِخْوَتَهُ الَّذِينَ يُحَارِبُ بِسِتَّةٍ مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ ، فَأَعْتَقَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ وَأَخَذَ مَكَانَ إِخْوَتِهِ سِتَّةً مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ قَالَ : وَكَانَتْ وِفَادَةُ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّ الْعُمَّالَ انْتَقَضُوا عَلَيْهِمْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا صَالَحَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحُلَلِ السَّبْعِينَ ، فَأَقَرَّ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مَا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ انْتَقَضَ ذَلِكَ وَصَارَ عَلَى الصَّدَقَةِ . ¤ قُلْتُ : الْمُصَالَحَةُ عَلَى الْحُلَلِ فَقَطْ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے تین بھائیوں کی ملکیت ہونے کے عالم میں اسلام قبول کیا وہ تینوں بھائی زمانہ جاہلیت میں ان کے غلام تھے وہ ایک وفد کی شکل میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے عہد خلافت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس غلام کو آزاد کر دیں جو ان کی خدمت کرتا ہے اور وہ اس غلام کے بھائی کو ان سے قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ غلاموں کے عوض میں خرید لیتے ہیں تو سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا انہوں نے اپنے ساتھ موجود بھائیوں کو آزاد کر دیا اور ان بھائیوں کی جگہ قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ غلام حاصل کر لیے پھر سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ وہ ان اہلکاروں کے سلسلے میں حاضر ہوئے ہیں کہ جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد زیادتی کی ہے اس چیز کے بارے میں جس کے بارے میں سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ستر حلوں کی ادائیگی طے کی تھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس صورت حال کو برقرار رکھا جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برقرار رکھا تھا یہاں تک کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بعد وہ چیز پھر کالعدم ہو گئی اور وہ صدقہ شمار ہوئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حلوں کے عوض میں معاہدہ کرنے والا حصہ امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6513
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (807)»