مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ . باب: جانور کے عوض میں جانور کو فروخت کرنا
وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً مُسِنَّةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ وَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الصَّدَقَةِ . فَسَكَتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الصُّنَابِحِيِّ الْأَحْمَسِيِّ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الْإِبِلِ قَالَ : " فَنَعَمْ إِذًا " . ¤ وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ . ¤سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک مسنہ اونٹنی ملاحظہ فرمائی تو آپ غصے میں آ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہاں سے آئی ہے ؟ ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے صدقہ کے حواشی میں سے دو اونٹوں کے عوض میں لی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے اونٹوں کے حواشی میں سے دو اونٹوں کے عوض میں لی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر یہ ٹھیک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔