حدیث نمبر: 6512
وَعَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ أَنَّهُ قَدِمَ بِإِبِلٍ لَهُ سِمَانٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي زَمَنِ مَحْلٍ ، وَجُدُوبٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَلَمَّا رَآهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَجِبُوا مِنْ سِمَنِهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ بِهَا فَخَرَجَ إِلَيْهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ : " لِمَ جَلَبْتَ إِبِلَكَ هَذِهِ ؟ " . قَالَ : أَرَدْتُ بِهَا خَادِمًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عِنْدَهُ خَادِمٌ ؟ " فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " هَاتِ " فَجَاءَ بِهَا عُثْمَانُ ، فَلَمَّا رَآهَا أَسْوَدُ قَالَ : مِثْلَهَا أُرِيدُ . فَقَالَ : عِنْدِي فَخُذْهَا . فَأَخَذَهَا أَسْوَدُ ، وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِبِلَهُ . قَالَ أَسْوَدُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " تَمْلِكُ لِسَانَكَ " قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْهُ ؟ قَالَ : " فَتَمْلِكُ يَدَكَ " قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي ؟ قَالَ : " فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا ، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ " . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الصَّمْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُخْتٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسود بن اصرم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ قحط سالی اور خشک سالی کے زمانے میں مدینہ منورہ موٹا تازہ اونٹ لے کر آئے جب اہل مدینہ نے انہیں دیکھا تو انہیں اونٹ کی صحت پسند آئی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے اونٹ کا ذکر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پیغام بھیجا وہ آپ کے پاس لائے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ نے ان کا جائزہ لیا اور فرمایا : تم اپنا یہ اونٹ کس لئے لے کے آئے ہو ان صاحب نے عرض کی : میں اس کے عوض میں ایک خادم لینا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس شخص کے پاس خادم موجود ہے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لے کے آؤ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے کے آئے جب اسود نے اس کنیز کو دیکھا تو بولے : میں ایسی ہی چاہتا تھا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے پاس ہے تم اسے لے لو تو سیدنا اسود رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اونٹ لے لیا ۔ سیدنا اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کوئی وصیت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی زبان ق ابومیں رکھنا انہوں نے عرض کی : اگر میں اس پر ق ابونہ رکھ پاؤں تو کس چیز پر ثابت رہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ہاتھ پر ق ابورکھنا ۔ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ پر بھی ق ابونہ رکھ پاؤں تو کس چیز پر ق ابورکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی زبان کے ذریعے صرف بھلائی کی بات کہنا اور اپنا ہاتھ صرف بھلائی کے کام کی طرف بڑھانا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ خاموشی سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بخت ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6512
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (817)»