عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ خَصِيَّيْنِ فَقَالَ : أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَلِي بِالْبَلَاغِ ، وَالْآخَرُ عَنْهُ ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ . قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ كَفَانَا الْمَئُونَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَلَفْظُهُ عِنْدَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ایسے دنبے ذبح کیے جن کی سفیدی سیاہی پر غالب تھی، اور وہ دونوں خصی تھے، آپ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں میں سے ایک ہر اس شخص کی طرف سے ہے ، جو توحید کی اور میری طرف سے تبلیغ کر دینے کی گواہی دے اور دوسرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کی طرف سے تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف سے کفایت کر دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی نقل کردہ سند حسن ہے اور روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی نقل کردہ سند حسن ہے اور روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبَى رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ . فَإِذَا صَلَّى وَخَطَبَ أَتَى بِأَحَدِهِمَا ، وَهُوَ فِي مُصَلَّاهُ فَذَبَحَهُ . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ " . ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ فَيَذْبَحُهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ " . فَيُطْعِمُهُمَا جَمِيعًا الْمَسَاكِينَ . وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا . قَالَ : فَلَبِثْنَا سِنِينَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي قَدْ كَفَانَا اللَّهُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغُرْمَ وَالْمَئُونَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے تو آپ دو موٹے تازے دنبے خریدتے تھے جو سینگ والے ہوتے تھے ، اور ان کی سفیدی سیاہی پر غالب تھی ( یا وہ بالکل سفید تھے ) جب آپ نے نماز ختم کی ، تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا : پھر آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس تشریف لائے آپ اس وقت عید گاہ میں موجود تھے آپ نے اسے ذبح کیا اور پھر فرمایا : اے اللہ ! یہ میری پوری امت میں سے ہر اس شخص کی طرف سے ہے ، جو تیرے بارے میں توحید کی اور میرے بارے میں تبلیغ کی گواہی دے پھر دوسرے جانور کو لایا گیا اور آپ نے اسے ذبح کیا اور پھر یہ فرمایا : اے اللہ ! یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہے آپ نے ان دونوں کا گوشت مساکین کو کھلایا آپ نے اور آپ کے اہل خانہ نے بھی ان کا گوشت کھایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر کئی سال ایسے گزر گئے کہ بنو ہاشم میں سے کوئی بھی قربانی نہیں کرتا تھا کیونکہ اللہ کے رسول نے ہماری جگہ یہ فریضہ سر انجام دے دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند اسے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند اسے نقل کیا ہے ۔
وَلِأَبِي رَافِعٍ فِي الْأَوْسَطِ قَالَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبْشًا ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا عَنِّي ، وَعَنْ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
معجم اوسط میں ، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنبہ قربان کیا اور پھر ارشاد فرمایا : یہ میری طرف سے اور میری امت کی طرف سے ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے امام أحمد اور امام بزار کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ عَظِيمَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ فَأَضْجَعَ أَحَدَهُمَا [ وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ " ثَمَّ أَضْجَعَ الْآخَرَ فَقَالَ : "بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . وَلِجَابِرٍ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو سینگوں والے، چتکبرے (جن کی سفیدی سیاہی پر غالب تھی)، موٹے تازے خصی مینڈھے (دنبے) لے کر آئے۔ آپ نے ان میں سے ایک کو لٹایا اور پھر یہ پڑھا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے : اے اللہ ! یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہے پھر آپ نے دوسرے کو لٹایا اور پھر یہ پڑھا اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے یہ محمد اور اس کی امت کی طرف سے ہے اور اس شخص کی طرف سے جو تیرے بارے میں توحید کی اور میرے بارے میں تبلیغ کر دینے کی گواہی دے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جسے امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جسے امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ يَوْمَ النَّحْرِ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ . فَذَكَرَ أَحَدَهُمَا فَقَالَ : " هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ أَبْيُتِهِ " ، وَذَكَرَ الْآخَرَ ، وَقَالَ : " هَذَا عَنْ مَنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " . قُلْتُ : لَهُ فِي ( السُّنَنِ ) : " أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ " فَقَطْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو چتکبرے (جن کی سفیدی زیادہ ہو) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو میں سے ایک کے بارے میں یہ فرمایا : یہ محمد اور اس کے اہل بیت کی طرف سے ہے اور دوسرے کے بارے میں یہ فرمایا : یہ ہر اس شخص کی طرف سے ہے کہ میری امت کا جو فرد قربانی نہیں کر سکے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” سنن “ میں یہ روایت منقول ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے ، موٹے تازے دُنبے کی قربانی کی تھی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اسے امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اسے امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : إِنَّهُمَا أَهْدَيَا إِلَيْهِ وَفِيهِ : الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جوان اور خصی دنبوں کی قربانی کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیے تھے اس روایت کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیے تھے اس روایت کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، فَقَرَّبَ أَحَدَهُمَا فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ [ اللَّهُمَّ ] مِنْكَ وَلَكَ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ " . وَقَرَّبَ الْآخَرَ وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ هَذَا عَنْ مَنْ وَحَّدَكَ مِنْ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگوں والے ، سفید دنبوں کی قربانی کی تھی آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو قربان کرتے ہوئے یہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے یہ محمد اور اس کے اہل بیت کی طرف سے ہے پھر آپ نے دوسرے کو قربان کیا ، تو یہ فرمایا : اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے اور یہ ہر اس شخص کی طرف سے ہے کہ میری امت کا جو بھی فرد ، تیری وحدانیت کا اعتراف کرتا ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج ابن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج ابن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، فَقَالَ عِنْدَ ذَبْحِ الْأَوَّلِ : " عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ " . وَقَالَ عِنْدَ ذَبْحِ الثَّانِي : " عَنْ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي مِنْ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ جَدِّهِ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید دنبے قربان کیے ، پہلے کو ذبح کرتے ہوئے آپ نے یہ فرمایا : یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہے اور دوسرے کو ذبح کرتے وقت یہ فرمایا : یہ اس شخص کی طرف سے ہے کہ میری امت کا جو فرد مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کی اپنے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کی اپنے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ : أَحَدُهُمَا عَنْهُ ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَالْآخَرُ عَنْهُ ، وَعَنْ مَنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَلَى الشَّكِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگوں والے ، سفید دنبے قربان کیے ، جن میں سے ایک آپ کی طرف سے اور آپ کے اہل بیت کی طرف سے تھا اور دوسرا آپ کی طرف سے اور آپ کی امت کے ہر اس فرد کی طرف سے تھا جو قربانی نہیں کرے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے شک کے ہمراہ نقل کی ہے کہ شاید یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یا شاید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوفروہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوفروہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ أَعْيَنَ فَحْلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والا ، بڑی آنکھ والا ، سفید دُنبہ ذبح کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ يَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا إِذَا أَرَادَ أَنْ يَذْبَحَ وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید دنبوں کی قربانی کی تھی ، آپ نے اپنا پاؤں اُن کو ذبح کرنے کے وقت ان کے پہلو پر رکھا اور پھر یہ کہا: ” اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے : اے اللہ ! محمد کی طرف سے یہ قبول فرما لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - وَهُوَ ابْنُ أُسَيْدٍ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَرِّبُ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَيَذْبَحُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ " وَقَرَّبَ الْآخَرَ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي لِمَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید دنبے قربان کیے ان میں سے ایک کو ذبح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : اے اللہ ! یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہے اور دوسرے کو قربان کرتے ہوئے آپ نے یہ فرمایا : اے اللہ ! یہ میری امت کے ہر اس فرد کی طرف سے ہے ، جو تیری توحید کی گواہی دے اور میری تبلیغ کی گواہی دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن نصر بن حاجب ہے ابن عدی نے اسے ثقہ کہا: ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن نصر بن حاجب ہے ابن عدی نے اسے ثقہ کہا: ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ أَنَّهُ اشْتَرَى كَبْشًا أَقْرَنَ أَعْيَنَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَآهُ فَقَالَ : " [ كَأَنَّ ] هَذَا الْكَبْشَ الَّذِي ذَبَحَ إِبْرَاهِيمُ " . فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاشْتَرَى لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَذِهِ الصِّفَةِ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَحَّى بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : انہوں نے ایک سینگ والا اور بڑی آنکھوں والا دُنبہ خریدا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : یہ تو اس دنبے کی مانند لگتا ہے جسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص گیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسی طرح کا ایک جانور خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے کر اس کی قربانی کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔