حدیث نمبر: 5972
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، فَقَرَّبَ أَحَدَهُمَا فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ [ اللَّهُمَّ ] مِنْكَ وَلَكَ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ " . وَقَرَّبَ الْآخَرَ وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ هَذَا عَنْ مَنْ وَحَّدَكَ مِنْ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگوں والے ، سفید دنبوں کی قربانی کی تھی آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو قربان کرتے ہوئے یہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے یہ محمد اور اس کے اہل بیت کی طرف سے ہے پھر آپ نے دوسرے کو قربان کیا ، تو یہ فرمایا : اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ( ملا ) ہے اور تیرے لئے ہے اور یہ ہر اس شخص کی طرف سے ہے کہ میری امت کا جو بھی فرد ، تیری وحدانیت کا اعتراف کرتا ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج ابن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأضاحي / حدیث: 5972
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3118)»