مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ أُضْحِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کی قربانی کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ يَوْمَ النَّحْرِ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ . فَذَكَرَ أَحَدَهُمَا فَقَالَ : " هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ أَبْيُتِهِ " ، وَذَكَرَ الْآخَرَ ، وَقَالَ : " هَذَا عَنْ مَنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " . قُلْتُ : لَهُ فِي ( السُّنَنِ ) : " أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ " فَقَطْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو چتکبرے (جن کی سفیدی زیادہ ہو) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو میں سے ایک کے بارے میں یہ فرمایا : یہ محمد اور اس کے اہل بیت کی طرف سے ہے اور دوسرے کے بارے میں یہ فرمایا : یہ ہر اس شخص کی طرف سے ہے کہ میری امت کا جو فرد قربانی نہیں کر سکے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” سنن “ میں یہ روایت منقول ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے ، موٹے تازے دُنبے کی قربانی کی تھی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اسے امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔