حدیث نمبر: 5967
وَعَنْ أَبَى رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ . فَإِذَا صَلَّى وَخَطَبَ أَتَى بِأَحَدِهِمَا ، وَهُوَ فِي مُصَلَّاهُ فَذَبَحَهُ . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ " . ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ فَيَذْبَحُهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ " . فَيُطْعِمُهُمَا جَمِيعًا الْمَسَاكِينَ . وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا . قَالَ : فَلَبِثْنَا سِنِينَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي قَدْ كَفَانَا اللَّهُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغُرْمَ وَالْمَئُونَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے تو آپ دو موٹے تازے دنبے خریدتے تھے جو سینگ والے ہوتے تھے ، اور ان کی سفیدی سیاہی پر غالب تھی ( یا وہ بالکل سفید تھے ) جب آپ نے نماز ختم کی ، تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا : پھر آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس تشریف لائے آپ اس وقت عید گاہ میں موجود تھے آپ نے اسے ذبح کیا اور پھر فرمایا : اے اللہ ! یہ میری پوری امت میں سے ہر اس شخص کی طرف سے ہے ، جو تیرے بارے میں توحید کی اور میرے بارے میں تبلیغ کی گواہی دے پھر دوسرے جانور کو لایا گیا اور آپ نے اسے ذبح کیا اور پھر یہ فرمایا : اے اللہ ! یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہے آپ نے ان دونوں کا گوشت مساکین کو کھلایا آپ نے اور آپ کے اہل خانہ نے بھی ان کا گوشت کھایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر کئی سال ایسے گزر گئے کہ بنو ہاشم میں سے کوئی بھی قربانی نہیں کرتا تھا کیونکہ اللہ کے رسول نے ہماری جگہ یہ فریضہ سر انجام دے دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند اسے نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأضاحي / حدیث: 5967
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, قال الذھبي:زهير بن محمد له مناكير وابن عقيل ليس بالقوي, نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 151)
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1208) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (920) اخرجه احمد فى المسند (391/6 و 392)»