کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مکہ کی حرمت کا بیان اور اس کی حرمت کو پامال کرنے کی ممانعت
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ " ، - يَعْنِي مِنْ سِدْرِ الْحَرَمِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلِهِ : مِنْ سِدْرِ الْحَرَمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بَابٌ فِيمَنْ قَطَعَ السِّدْرَ فِي الْبَيْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیری کے درخت کو کاٹے گا اللہ تعالٰی اس کے سر کو آگ میں ڈال دے گا“ ۔ رادی کہتے ہیں : یعنی حرم کے بیری کے درخت کو کاٹے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” یعنی حرم کے بیری کے درخت “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر خرید و فروخت سے متعلق باب میں وہ روایت آئے گی جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو بیری کا درخت کاٹ دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5698
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2462)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُحِلُّهَا وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ; لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبَهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” اسے حلال کیا جائے گا اور قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اسے حلال کرے گا ( یعنی اس کی حرمت کو پامال کرے گا ) اگر اس شخص کے گناہوں کا وزن انسانوں اور جنات کے تمام گناہوں کے ساتھ کیا جائے گا تو یہ ان پر بھاری ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5699
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6847)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُلْحِدُ رَجُلٌ بِمَكَّةَ يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ اللَّهِ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّغَانِيُّ ، وَثَّقَهُ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَابْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص مکہ میں فساد کرے گا اس کا نام عبداللہ ہو گا اسے تمام جہان کے عذاب کا نصف ( عذاب ) ہو گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر صنانی ہے ، جسے صالح بن محمد ، ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5700
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1174)»
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْحِجْرِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُحِلُّهَا وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ; لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا " ، قَالَ : فَانْظُرْ أَنْ لَا يَكُونَ هُوَ يَا ابْنَ عَمْرٍو ; فَإِنَّكَ قَدْ قَرَأْتَ الْكُتُبَ ، وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ هَذَا وَجْهِي إِلَى الشَّامِ مُجَاهِدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عمرو بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جو حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن زبیر تم اللہ تعالیٰ کے حرم میں فساد ڈالنے سے بچو کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اس کی حرمت کو پامال کیا جائے گا اور قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کی حرمت کو پامال کرے گا اگر اس شخص کے گناہوں کو انسانوں اور جنات کے تمام گناہوں کے ساتھ وزان کیا جائے تو اس کا گناہ وزنی ہو گا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابن عمرو تم اس بات کا جائزہ لو کہ کہیں وہ شخص تم نہ ہو کیونکہ تم نے کتابیں پڑھی ہوئی ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں جہاد کرنے کے لئے شام جانے لگا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7043)»
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ابْنَ الزُّبَيْرِ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ : يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ; لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَحَجَتْ " ، قَالَ : انْظُرْ لَا تَكُنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عمرو بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور بولے : اے ابن زبیر تم اللہ تعالیٰ کے حرم میں قتل و غارت گری سے بچو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” عنقریب قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس میں قتل و غارت گری کرے گا اگر اس کے گناہوں کا وزن انسانوں اور جنات کے تمام گناہوں سے کیا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہو گا “ تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ وہ نہ ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فـ المسند (6200)»
وَعَنِ ابْنِ أَبْزَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ : إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ ؟ قَالَ : لَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُلْحِدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ; عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي نَحْوُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الْفِتَنِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابزی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں اس وقت یہ کہا: کہ جب انہیں محصور کر دیا گیا تھا کہ میرے پاس عمدہ اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے آپ کے لئے تیار کیا ہے کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آپ مکہ منتقل ہو جائیں جو شخص آپ کے پاس آنا چاہے گا وہ آپ کے پاس آ جائے گا تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی نہیں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” قریش کا ایک مینڈھا مکہ میں قتل و غارت گری کرے گا اس کا نام عبداللہ ہو گا اسے تمام لوگوں کے گناہوں کا نصف گناہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5703
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1175) اخرجه احمد فى المسند (461)»
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُ قَائِدَ الْفِيلِ وَسَائِسَهُ أَعْمَيَيْنِ مُقْعَدَيْنِ يَسْتَطْعِمَانِ بِمَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے ہاتھی کو لے کر چلنے والے اور اس کے سائیس کو دیکھا وہ دونوں اندھے ہو چکے تھے اور اپاہچ تھے اور مکہ میں کھانا مانگتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5704
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1176)»