مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قَطَعَ السِّدْرَ فِي الْبَيْعِ . باب: مکہ کی حرمت کا بیان اور اس کی حرمت کو پامال کرنے کی ممانعت
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ابْنَ الزُّبَيْرِ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ : يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ; لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَحَجَتْ " ، قَالَ : انْظُرْ لَا تَكُنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سعید بن عمرو بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور بولے : اے ابن زبیر تم اللہ تعالیٰ کے حرم میں قتل و غارت گری سے بچو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” عنقریب قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس میں قتل و غارت گری کرے گا اگر اس کے گناہوں کا وزن انسانوں اور جنات کے تمام گناہوں سے کیا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہو گا “ تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ وہ نہ ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔