حدیث نمبر: 5703
وَعَنِ ابْنِ أَبْزَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ : إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ ؟ قَالَ : لَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُلْحِدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ; عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي نَحْوُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الْفِتَنِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

ابن ابزی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں اس وقت یہ کہا: کہ جب انہیں محصور کر دیا گیا تھا کہ میرے پاس عمدہ اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے آپ کے لئے تیار کیا ہے کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آپ مکہ منتقل ہو جائیں جو شخص آپ کے پاس آنا چاہے گا وہ آپ کے پاس آ جائے گا تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی نہیں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” قریش کا ایک مینڈھا مکہ میں قتل و غارت گری کرے گا اس کا نام عبداللہ ہو گا اسے تمام لوگوں کے گناہوں کا نصف گناہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5703
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1175) اخرجه احمد فى المسند (461)»