کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مکہ کی حرمت کا بیان اور اس کی حرمت کو پامال کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 5694
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ حَرَمَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهُ ، وَلَا يُحْتَشُّ حَشِيشُهُ ، وَلَا تُرْفَعُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِإِنْشَادِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے حرم کو قیامت کے دن تک کے لئے حرم قرار دیا ہے اس کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا اس کی گھاس کو اکھیڑا نہیں جائے گا اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا البتہ اعلان کرنے کے لئے اٹھایا جا سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5695
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أُحِلَّتْ لِي مَكَّةُ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، وَهِيَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى خِلَالُهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا " ، قَالُوا : إِلَّا الْإِذْخِرَ ; فَإِنَّهُ لِقَيْنِنَا وَبُيُوتِنَا ؟ قَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” میرے لئے مکہ کو دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال قرار دیا گیا تھا میرے بعد یہ کسی کے لئے حلال نہیں ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک قابل احترام ہو گا اس کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا اس کے پودے کو اکھیڑا نہیں جائے گا اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا البتہ اعلان کرنے کے لئے ایسا کیا جا سکتا ہے لوگوں نے عرض کی : ازخر کا حکم مختلف ہونا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے سنار استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اذخر کا حکم مختلف ہے ( یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5696
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَذَا الْبَيْتَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَصَاغَهُ حِينَ صَاغَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَمَا حِيَالُهُ مِنَ السَّمَاءِ حَرَامٌ ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، وَإِنَّمَا يَحِلُّ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ " ، فَقِيلَ لَهُ : هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَقْتُلُ ؟ فَقَالَ : " قُمْ يَا فُلَانٌ فَأْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَهُ : يَرْفَعْ يَدَهُ مِنَ الْقَتْلِ " ، فَأَتَاهُ الرَّجُلُ فَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اقْتُلْ مَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ " ، فَقَتَلَ سَبْعِينَ إِنْسَانًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى خَالِدٍ فَقَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكَ عَنِ الْقَتْلِ ؟ " ، فَقَالَ : جَاءَنِي فُلَانٌ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْتُلَ مَنْ قَدَرْتُ عَلَيْهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ : " أَلَمْ آمُرْ خَالِدًا أَنْ لَا يَقْتُلَ أَحَدًا ؟ " ، فَقَالَ : أَرَدْتَ أَمْرًا وَأَرَادَ اللَّهُ أَمْرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ فَوْقَ أَمْرِكَ مَا اسْتَطَعْتُ إِلَّا الَّذِي كَانَ ، فَسَكَتَ عَنْهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا رَدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو اس دن حرم قرار دیا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا اور اسے اس دن پیدا کیا تھا جب سورج اور چاند کو پیدا کیا تھا ، اس کے اوپر تک آسمان کا پورا حصہ حرم ہے اور یہ میرے بعد کسی کے لئے حلال نہیں ہو گا اور میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال ہوا تھا پھر یہ پہلے کی طرح ( قابل احترام ) ہو گیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قتل کر رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فلاں تم اٹھو اور خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور اسے یہ کہو کہ وہ قتل سے ہاتھ اٹھا لے وہ شخص ان کے پاس گیا اور بولا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں تمہیں جس پر ق ابوملتا ہے تم اسے قتل کر دو تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ستر افراد قتل کر دیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اس نے آپ کے سامنے یہ صورت حال ذکر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور فرمایا : کیا میں نے تمہیں قتل کرنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : میرے پاس فلاں شخص آیا اور اس نے مجھے یہ کہا: کہ میں جس شخص پر ق ابوپاؤں اسے قتل کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوسرے شخص کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : کیا میں نے خالد کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ وہ کسی کو قتل نہ کرے اس شخص نے کہا: آپ نے ایک چیز کا ارادہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کا ارادہ کیا تھا تو اللہ تعالی کا حکم آپ کے حکم کے اوپر ہے میں اس کی استطاعت نہیں رکھ سکا میں صرف اس کی استطاعت رکھ سکا جو ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خاموش ہو گئے ، آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 5697
وَعَنْ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ - وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُطِيعًا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ بِمَكَّةَ يَقُولُ : " لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا نام پہلے عاصی تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام مطبع رکھا تھا وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ نے مکہ میں ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس سال کے بعد مکہ میں کبھی جنگ نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔