کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: منیٰ اور عرفہ کی طرف جانا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَفَاضَ جِبْرِيلُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ . ثُمَّ غَدَا مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْمُزْدَلِفَةَ فَنَزَلَ بِهَا فَبَاتَ بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : فَصَلَّى كَأَعْجَلِ مَا يُصَلِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ دَفَعَ بِهِ إِلَى مِنًى فَرَمَى وَذَبَحَ وَحَلَقَ . ثُمَّ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَفِي بَعْضِ طُرُقِهَا : أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ : إِنِّي مُضْعَفٌ مِنَ الْحُمُولَةِ مُضْعَفٌ مِنْ أَهْلٍ ، أَفَتَرَى لِي أَنْ أَتَعَجَّلَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَدِمَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ رَاحَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لے کر منی کی طرف روانہ ہوئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے وہاں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء اور صبح کی نمازیں ادا کیں پھر وہ منی سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں ۔ انہوں نے دو نمازیں ادا کیں پھر وہ وقوف کیے رہے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہو گیا تو وہ انہیں لے کر مزدلفہ آئے ۔ انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور رات وہاں بسر کی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے اس طرح نماز ادا کی کہ جس طرح کوئی بھی مسلمان سب سے زیادہ جلدی ادا کر سکتا ہے پھر وہ وہاں سے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ۔ انہوں نے رمی کی ( جانور ) ذبح کیا اور سر مونڈوایا پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ بات وحی کی کہ تم ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو صحیح طریقے کی پیروی کرنے والا تھا اور وہ مشرک نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اس کے بعض طرق میں یہ بات مذکور ہے ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں اپنی سواری کے حوالے سے بھی کمزور ہوں اور اہل خانہ کے حوالے سے بھی کمزور ہوں تو کیا آپ میرے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ میں جلدی چلا جاؤں ؟ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا صفا و مروہ کی سعی کی پھر وہ روانہ ہوئے ۔ انہوں نے ظہر کی نماز منی میں ادا کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5539
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ ، وَكُلُّ فِجَاجِ مِنًى مَنْحَرٌ ، وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ " . وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے البتہ تم عرنہ کے نشیبی حصے سے اوپر رہو اور سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے البتہ تم محسر سے اوپر رہو منی کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے اور تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” مکہ کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے “ ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1126) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1583) اخرجه احمد فى المسند (82/4)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے منی پورا قربانی کی جگہ ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1127) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11001)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَشْعَرٌ ، وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ ، وَكُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ وَادِ مُحَسِّرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْجُعْفِيٌّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پورا مزدلفہ مشعر ہے البتہ تم عرنہ کے نشیبی حصے سے اوپر رہو اور پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے البتہ تم محسر کی وادی سے اوپر رہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5542
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (150 مجمع (البحرين) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11408, 11005, 11001)»
وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ - : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ عَرَفَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَصِيفٌ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے اور میرے علم کے مطابق انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” حج عرفات ( میں وقوف ) کا نام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِعَرَفَاتٍ ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ بَعْدَمَا بُعِثَ وَاقِفًا فِي مَوْقِفِهِ ذَلِكَ ، فَعَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَفَّقَهُ لِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ربیعہ بن عباد نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں مشرکین کے ساتھ وقوف کیے ہوئے دیکھا آپ کے مبعوث ہونے کے بعد بھی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسی وقوف کی جگہ پر وقوف کیا ہوا تھا تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی توفیق دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5544
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : كَانَ فُلَانٌ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا ، قَالَ : وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنَ أَخِي إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن قیس عبدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا عرفہ کے دن فلاں صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اس نوجوان نے خواتین کو دیکھنا شروع کر دیا اور ان کی طرف دیکھنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے پیچھے سے ان کا چہرہ کئی مرتبہ دوسری طرف پھیرا لیکن وہ نوجوان خواتین کی طرف دیکھتے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے میرے بھتیجے یہ وہ دن ہے کہ اس میں جو شخص اپنی سماعت بصارت اور زبان کو ق ابومیں رکھے گا اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3042 مطولا و 3350 مختصرا)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ بِأَهْلِ عَرَفَةَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ عرفہ کی شام اہل عرفہ والوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو یہ بکھرے ہوئے بال لے کر غبار آلود ہو کر میری بارگاہ میں آئے ہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (575) ، اخرجه احمد فى المسند (7089)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ يَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ عرفات والوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور وہ غبار آلود ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد المسند (8033) مستدرك حاكم (465/6)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ هَذِهِ الْعَشْرَ كَلِمَاتٍ أَلْفَ مَرَّةٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِلَّا قَطِيعَةَ رَحِمٍ أَوْ مَأْثَمٍ : سُبْحَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْأَرْضِ مَوْطِئُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي النَّارِ سُلْطَانُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْقُبُورِ قَضَاؤُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْهَوَاءِ رُوحُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاءَ ، سُبْحَانَ الَّذِي وَضَعَ الْأَرْضَ سُبْحَانَ الَّذِي لَا مَنْجَا مِنْهُ إِلَّا إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَزْرَةُ بْنُ قَيْسٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص عرفہ کی شام یہ کلمات ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے گا وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ چیز عطا کرے گا البتہ جو چیز قطع رحمی سے تعلق رکھتی ہو یا گناہ والی ہو اس کا معاملہ مختلف ہے ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ” ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات آسمان جس کا عرش ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات زمین میں جس کا حکم چلتا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات سمندر میں جس کا راستہ ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات آگ میں جس کی حکمرانی ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جنت میں جس کی رحمت ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات قبروں میں جس کا فیصلہ نافذ ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات ہوا میں جس کی روح ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے زمین کو بچھایا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس کے مقابلے میں اس کے علاوہ کوئی جائے نجات نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عزرہ بن قیس ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5548
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5385) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10554)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ فِيمَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي وَتَرَى مَكَانِي وَتَعْلَمُ سِرِّي وَعَلَانِيَتِي ، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِهِ أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمِسْكِينِ ، وَأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ ، مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ ، وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ ، وَذَلَّ جَسَدُهُ ، وَرَغِمَ لَكَ أَنْفُهُ ، اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بِدُعَائِكَ شَقِيًّا ، وَكُنْ بِي رَءُوفًا رَحِيمًا ، يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَزَادَ : " الْوَجِلِ الْمُشْفِقِ " . وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأُبُلِّيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ مَنَاكِيرَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا کی تھی ان میں یہ کلمات بھی شامل تھے : ” اے اللہ ! بے شک تو میرا کلام سنتا ہے اور میری جگہ سے واقف ہے میری پوشیدہ اور اعلانیہ چیزوں کو جانتا ہے میرے معاملے کے حوالے سے تجھ سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے ، میں لاچار ، غریب ، مدد مانگنے والا ، پناہ مانگنے والا ، ڈرنے والا ، اپنے گناہوں کا اقرار ، اور اعتراف کرنے والا ہوں ، میں تجھ سے یوں مانگتا ہوں جیسے کوئی مسکین مانگتا ہے اور تیری بارگاہ میں یوں رجوع کرتا ہوں جس طرح کوئی گناہگار ذلیل بندہ رجوع کرتا ہے میں تجھ سے ہوں دعا کرتا ہوں جس طرح کوئی خوف زدہ اور نابینا شخص دعا کرتا ہے ، جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو جس کی آنکھیں تیری بارگاہ میں بہہ رہی ہوں جس کا جسم کمزور ہو جس کی ناک تیری بارگاہ میں خاک آلود ہوا اے اللہ ! تو مجھے اپنے فضل کے تحت بد نصیب نہ کرنا اور میرے سامنے مہربان اور رقم والا بن کے رہنا اے ان سب سے زیادہ بہتر جن سے مانگا جاتا ہے اور اے عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتر “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” پریشان اور خوف زدہ شخص “ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ابلی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : یحیی بکیر نے اس سے منکر روایات نقل کی ہیں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5549
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (696) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11405)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر یہ دعا پڑھتے تھے : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہ ہو ۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَهْلُ عَرَفَةَ خَاصَّةً ؟ قَالَ : " بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عرفہ کی شام جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان موجود ہوتا ہے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اہل عرفہ کے لئے خاص ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ یہ مسلمانوں کے لئے عام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5551
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ طَالِبِ بْنِ سَلْمَى بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ : " أَلَا إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى هَذَا الْجَمْعِ فَقَبِلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَشَفَّعَ مُحْسِنَهُمْ فِي مُسِيئِهِمْ فَتَجَاوَزَ عَنْهُمْ جَمِيعًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
طالب بن سلمی بن عاصم بن حکم بیان کرتے ہیں : میرے اہل خانہ میں سے مجھے کسی نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے میرے دادا کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خبردار بے شک اللہ تعالیٰ نے اس مجمع کی طرف نظر کی اور ان کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کیا اور ان کے برے فرد کے بارے میں ان کے اچھے فرد کی شفاعت کو قبول کیا پھر ان سب سے درگزر کر دیا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5552
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6832)»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِيَ أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتْهُنَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : هِيَ أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا عَفِيرًا يُعَفِّرُ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ . وَمَا مِنْ يَوْمٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِأَهْلِ الْأَرْضِ أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا صَاحِينَ جَاءُوا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَلَمْ يَرَوْا رَحْمَتِي وَلَمْ يَرَوْا عَذَابِي ، فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعَقِيلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَفْضَلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامُ الْعَشْرِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ فِي كِتَابِ الْأَضَاحِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالی کے نزدیک کوئی بھی دن ذوالج کے عشرے کے دنوں سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ( دن ) زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا اتنی ہی تعداد میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دن اتنی ہی تعداد میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا چہرہ مٹی میں خاک آلود ہو جاتا ہے ( یعنی جو شہید ہو جاتا ہے ) اور کوئی بھی دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عرفہ کے دن سے افضل نہیں ہے اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور زمین والوں کے حوالے سے آسمان والوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں کے مالک اور غبار آلود ہیں وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں وہ دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں حالانکہ انہوں نے میری رحمت کو بھی نہیں دیکھا ہے اور انہوں نے میرے عذاب کو بھی نہیں دیکھا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) میں نے ایسا کوئی دن نہیں دیکھا جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان عقیلی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کچھ کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے دس دن ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ذوالج کے عشرے کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر قربانی سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5553
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1128) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2090)»