مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَرَفَةَ وَالْوُقُوفُ بِهَا باب: منیٰ اور عرفہ کی طرف جانا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَفَاضَ جِبْرِيلُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ . ثُمَّ غَدَا مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْمُزْدَلِفَةَ فَنَزَلَ بِهَا فَبَاتَ بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : فَصَلَّى كَأَعْجَلِ مَا يُصَلِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ دَفَعَ بِهِ إِلَى مِنًى فَرَمَى وَذَبَحَ وَحَلَقَ . ثُمَّ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَفِي بَعْضِ طُرُقِهَا : أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ : إِنِّي مُضْعَفٌ مِنَ الْحُمُولَةِ مُضْعَفٌ مِنْ أَهْلٍ ، أَفَتَرَى لِي أَنْ أَتَعَجَّلَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَدِمَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ رَاحَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لے کر منی کی طرف روانہ ہوئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے وہاں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء اور صبح کی نمازیں ادا کیں پھر وہ منی سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں ۔ انہوں نے دو نمازیں ادا کیں پھر وہ وقوف کیے رہے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہو گیا تو وہ انہیں لے کر مزدلفہ آئے ۔ انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور رات وہاں بسر کی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے اس طرح نماز ادا کی کہ جس طرح کوئی بھی مسلمان سب سے زیادہ جلدی ادا کر سکتا ہے پھر وہ وہاں سے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ۔ انہوں نے رمی کی ( جانور ) ذبح کیا اور سر مونڈوایا پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ بات وحی کی کہ تم ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو صحیح طریقے کی پیروی کرنے والا تھا اور وہ مشرک نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اس کے بعض طرق میں یہ بات مذکور ہے ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں اپنی سواری کے حوالے سے بھی کمزور ہوں اور اہل خانہ کے حوالے سے بھی کمزور ہوں تو کیا آپ میرے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ میں جلدی چلا جاؤں ؟ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا صفا و مروہ کی سعی کی پھر وہ روانہ ہوئے ۔ انہوں نے ظہر کی نماز منی میں ادا کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ۔