مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَرَفَةَ وَالْوُقُوفُ بِهَا باب: منیٰ اور عرفہ کی طرف جانا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ هَذِهِ الْعَشْرَ كَلِمَاتٍ أَلْفَ مَرَّةٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِلَّا قَطِيعَةَ رَحِمٍ أَوْ مَأْثَمٍ : سُبْحَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْأَرْضِ مَوْطِئُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي النَّارِ سُلْطَانُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْقُبُورِ قَضَاؤُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْهَوَاءِ رُوحُهُ ، سُبْحَانَ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاءَ ، سُبْحَانَ الَّذِي وَضَعَ الْأَرْضَ سُبْحَانَ الَّذِي لَا مَنْجَا مِنْهُ إِلَّا إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَزْرَةُ بْنُ قَيْسٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص عرفہ کی شام یہ کلمات ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے گا وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ چیز عطا کرے گا البتہ جو چیز قطع رحمی سے تعلق رکھتی ہو یا گناہ والی ہو اس کا معاملہ مختلف ہے ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ” ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات آسمان جس کا عرش ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات زمین میں جس کا حکم چلتا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات سمندر میں جس کا راستہ ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات آگ میں جس کی حکمرانی ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جنت میں جس کی رحمت ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات قبروں میں جس کا فیصلہ نافذ ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات ہوا میں جس کی روح ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے زمین کو بچھایا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس کے مقابلے میں اس کے علاوہ کوئی جائے نجات نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عزرہ بن قیس ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔