مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَرَفَةَ وَالْوُقُوفُ بِهَا باب: منیٰ اور عرفہ کی طرف جانا
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِيَ أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتْهُنَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : هِيَ أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا عَفِيرًا يُعَفِّرُ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ . وَمَا مِنْ يَوْمٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِأَهْلِ الْأَرْضِ أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا صَاحِينَ جَاءُوا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَلَمْ يَرَوْا رَحْمَتِي وَلَمْ يَرَوْا عَذَابِي ، فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعَقِيلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَفْضَلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامُ الْعَشْرِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ فِي كِتَابِ الْأَضَاحِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالی کے نزدیک کوئی بھی دن ذوالج کے عشرے کے دنوں سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ( دن ) زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا اتنی ہی تعداد میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دن اتنی ہی تعداد میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا چہرہ مٹی میں خاک آلود ہو جاتا ہے ( یعنی جو شہید ہو جاتا ہے ) اور کوئی بھی دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عرفہ کے دن سے افضل نہیں ہے اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور زمین والوں کے حوالے سے آسمان والوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں کے مالک اور غبار آلود ہیں وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں وہ دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں حالانکہ انہوں نے میری رحمت کو بھی نہیں دیکھا ہے اور انہوں نے میرے عذاب کو بھی نہیں دیکھا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) میں نے ایسا کوئی دن نہیں دیکھا جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان عقیلی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کچھ کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے دس دن ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ذوالج کے عشرے کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر قربانی سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔