مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَرَفَةَ وَالْوُقُوفُ بِهَا باب: منیٰ اور عرفہ کی طرف جانا
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : كَانَ فُلَانٌ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا ، قَالَ : وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنَ أَخِي إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤عبدالعزیز بن قیس عبدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا عرفہ کے دن فلاں صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اس نوجوان نے خواتین کو دیکھنا شروع کر دیا اور ان کی طرف دیکھنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے پیچھے سے ان کا چہرہ کئی مرتبہ دوسری طرف پھیرا لیکن وہ نوجوان خواتین کی طرف دیکھتے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے میرے بھتیجے یہ وہ دن ہے کہ اس میں جو شخص اپنی سماعت بصارت اور زبان کو ق ابومیں رکھے گا اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔