مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَرَفَةَ وَالْوُقُوفُ بِهَا باب: منیٰ اور عرفہ کی طرف جانا
حدیث نمبر: 5551
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَهْلُ عَرَفَةَ خَاصَّةً ؟ قَالَ : " بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عرفہ کی شام جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان موجود ہوتا ہے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اہل عرفہ کے لئے خاص ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ یہ مسلمانوں کے لئے عام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔