حدیث نمبر: 5549
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ فِيمَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي وَتَرَى مَكَانِي وَتَعْلَمُ سِرِّي وَعَلَانِيَتِي ، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِهِ أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمِسْكِينِ ، وَأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ ، مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ ، وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ ، وَذَلَّ جَسَدُهُ ، وَرَغِمَ لَكَ أَنْفُهُ ، اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بِدُعَائِكَ شَقِيًّا ، وَكُنْ بِي رَءُوفًا رَحِيمًا ، يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَزَادَ : " الْوَجِلِ الْمُشْفِقِ " . وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأُبُلِّيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ مَنَاكِيرَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا کی تھی ان میں یہ کلمات بھی شامل تھے : ” اے اللہ ! بے شک تو میرا کلام سنتا ہے اور میری جگہ سے واقف ہے میری پوشیدہ اور اعلانیہ چیزوں کو جانتا ہے میرے معاملے کے حوالے سے تجھ سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے ، میں لاچار ، غریب ، مدد مانگنے والا ، پناہ مانگنے والا ، ڈرنے والا ، اپنے گناہوں کا اقرار ، اور اعتراف کرنے والا ہوں ، میں تجھ سے یوں مانگتا ہوں جیسے کوئی مسکین مانگتا ہے اور تیری بارگاہ میں یوں رجوع کرتا ہوں جس طرح کوئی گناہگار ذلیل بندہ رجوع کرتا ہے میں تجھ سے ہوں دعا کرتا ہوں جس طرح کوئی خوف زدہ اور نابینا شخص دعا کرتا ہے ، جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو جس کی آنکھیں تیری بارگاہ میں بہہ رہی ہوں جس کا جسم کمزور ہو جس کی ناک تیری بارگاہ میں خاک آلود ہوا اے اللہ ! تو مجھے اپنے فضل کے تحت بد نصیب نہ کرنا اور میرے سامنے مہربان اور رقم والا بن کے رہنا اے ان سب سے زیادہ بہتر جن سے مانگا جاتا ہے اور اے عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتر “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” پریشان اور خوف زدہ شخص “ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ابلی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : یحیی بکیر نے اس سے منکر روایات نقل کی ہیں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5549
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (696) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11405)»