کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: پہلی کے چاند کا بیان اور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ اور اسے دیکھ کر روزہ رکھو “
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ هَذِهِ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ ; صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ; فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ صَدُوقٌ ; وَلَكِنَّهُ ضَاعَتْ كُتُبُهُ وَقَبِلَ التَّلْقِينَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالی نے پہلی کے چاند کو لوگوں کے لئے ( مہینوں کا حساب ) رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے ، تو تم اسے دیکھ کر روزے رکھو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اور اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تعداد مکمل کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ، اور وہ صدوق ہے ، تاہم اس کی تحریریں ضائع ہو گئی تھیں وہ تلقین قبول کر لیتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ، اور وہ صدوق ہے ، تاہم اس کی تحریریں ضائع ہو گئی تھیں وہ تلقین قبول کر لیتا تھا ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم پہلی کا چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو تو عیدالفطر کرو اور اگر تم پر بادل چھایا ہو تو تیس کی تعداد پوری کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ " . ¤ قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ ; وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے دیکھ کے روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کے عیدالفطر کرو اور اگر تم پر بادل چھایا ہوا ہو تو تعداد مکمل کرو “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مہینہ اتنا اتنا اور اتنا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن داؤد قطان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن داؤد قطان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ مَسْرُوقٍ ، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " . وَقَالَ بِيَدِهِ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " . يَعْنِي : تِسْعًا وَعِشْرِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ صَدُوقٌ يَتَشَيَّعُ . ¤
محمد محی الدین
مسروق اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس کی تعداد پوری کرو “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے کہا: مہینہ ( کبھی ) اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ہاشم بن برید ہے ، جو صدوق ہے ، لیکن اس میں تشیع پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ہاشم بن برید ہے ، جو صدوق ہے ، لیکن اس میں تشیع پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَصُمْ رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ إِلَّا أَنْ تَرَى الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ; وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رمضان آ جائے تو تم رمضان کے تیس روزے رکھو البتہ اگر اس سے پہلے تم پہلی کا چاند دیکھ لو تو معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقَدَّمُوا - يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ - صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ; وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس سے پہلے نہ کرو ( راوی کہتے ہیں : ) یعنی رمضان کے مہینے سے پہلے روزے رکھنے شروع نہ کرو اسے ( یعنی پہلی کے چاند کو ) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اگر تم پر بادل چھایا ہو تو تیس کی تعداد مکمل کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ : شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ وَبِهَا ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى وَالِيهَا وَشَهِدَ عِنْدَهُ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَسَأَلَ ابْنَ عَمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَهَادَتِهِ ، فَأَمَرَاهُ أَنْ يُجِيزَهَا ، وَقَالَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُجِيزُ شَهَادَةً فِي الْإِفْطَارِ إِلَّا شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن میسرہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں موجود تھا وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ایک شخص وہاں کے والی کے پاس آیا اور اس نے والی کے سامنے رمضان کے مہینے کے پہلی کے چاند کو دیکھنے کے بارے میں گواہی دی ، والی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کی گواہی کے بارے میں دریافت کیا ، تو ان دونوں صاحبان نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ اس گواہی کو قبول کرے ۔ ان دونوں حضرات نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلی کے چاند کو دیکھنے کے بارے میں ایک شخص کی گواہی کو بھی درست قرار دیا ہے ، البتہ عیدالفطر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم دو آدمیوں کی گواہی کو درست قرار دیتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت سنن میں اختصار کے ساتھ موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمرو ابلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت سنن میں اختصار کے ساتھ موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمرو ابلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ انْتِفَاخُ الْأَهِلَّةِ ، وَأَنْ يُرَى الْهِلَالُ لِلَيْلَةٍ فَيُقَالُ :[ هُوَ ابْنُ ] لَيْلَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَزْرَقِ الْأَنْطَاكِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قریب ہونے کے زمانے میں چاند پھول جائے گا ، اور پہلی کا چاند جب نظر آئے گا تو یہ کہا: جائے گا : یہ تو دو راتوں کا چاند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ازرق انطا کی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ازرق انطا کی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الصِّيَامُ مِنْ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ إِلَى رُؤْيَتِهِ ; فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ فَثَلَاثِينَ يَوْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلی کا چاند دیکھ کر روزے شروع کیے جائیں گے اور اسے دیکھنے تک رکھے جائیں گے ، اگر وہ تم سے پوشیدہ رہتا ہے ، تو تیس دن ( روزے رکھے جائیں گے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ، فَطَلَعَ رَاكِبٌ فَقَالَ عُمَرُ : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟ قَالَ : مِنَ الشَّامِ . قَالَ : أَهْلَلْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ . فَلَقِيَ الْمُؤْمِنُونَ أَحَدَهُمْ . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ پہلی کا چاند دیکھنے کے لئے نکلے ایک سوار سامنے آیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : شام سے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم نے پہلی کا چاند دیکھا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر پھر اہل ایمان ملے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ انْتِفَاخُ الْأَهِلَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُوسُفَ ، ذَكَرَ لَهُ فِي الْمِيزَانِ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : إِنَّهُ مَجْهُولٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قریب ہونے کے وقت پہلی کا چاند بڑا ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یوسف ہے ” میزان الاعتدال “ میں مصنف نے اس کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ۔ یہ مجہول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یوسف ہے ” میزان الاعتدال “ میں مصنف نے اس کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ۔ یہ مجہول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى [ عَنِ الْبَرَاءِ ] قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ هِلَالَ شَوَّالٍ . فَقَالَ عُمَرُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْطِرُوا . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ; قَالَ النَّسَائِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَيُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا : میں نے پہلی کا یعنی شوال کا چاند دیکھ لیا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! عیدالفطر کرو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ ثعلبی ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قوی نہیں ہے ، البتہ اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ائمہ نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ ثعلبی ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قوی نہیں ہے ، البتہ اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ائمہ نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنْ قَوْمًا شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَغْدُوا عَلَى عِيدِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : الصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہلی کا چاند یعنی شوال کا چاند دیکھنے کے بارے میں گواہی دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ عیدالفطر کریں اور اگلے دن عید کی نماز کے لئے جائیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ امام بزار فرماتے ہیں درست یہ ہے کہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ امام بزار فرماتے ہیں درست یہ ہے کہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ صِيَامًا لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ ، فَجَاءَ رَجُلَانِ ، فَشَهِدَا أَنَّهُمَا رَأَيَا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ فَأَفْطَرُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : لَمْ يَقُلْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ إِلَّا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ ، قُلْتُ : وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تیس دن مکمل ہونے پر لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا دو آدمی آئے اور ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ گزشتہ دن ان دونوں نے پہلی کا چاند دیکھ لیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ عیدالفطر کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں اس حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ بات صرف اسحاق بن اسماعیل بن طالقانی نے بیان کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ راوی ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں اس حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ بات صرف اسحاق بن اسماعیل بن طالقانی نے بیان کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ راوی ثقہ ہے ۔