مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْأَهِلَّةِ وَقَوْلِهِ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ " . باب: پہلی کے چاند کا بیان اور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ اور اسے دیکھ کر روزہ رکھو “
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ : شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ وَبِهَا ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى وَالِيهَا وَشَهِدَ عِنْدَهُ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَسَأَلَ ابْنَ عَمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَهَادَتِهِ ، فَأَمَرَاهُ أَنْ يُجِيزَهَا ، وَقَالَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُجِيزُ شَهَادَةً فِي الْإِفْطَارِ إِلَّا شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عبدالملک بن میسرہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں موجود تھا وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ایک شخص وہاں کے والی کے پاس آیا اور اس نے والی کے سامنے رمضان کے مہینے کے پہلی کے چاند کو دیکھنے کے بارے میں گواہی دی ، والی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کی گواہی کے بارے میں دریافت کیا ، تو ان دونوں صاحبان نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ اس گواہی کو قبول کرے ۔ ان دونوں حضرات نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلی کے چاند کو دیکھنے کے بارے میں ایک شخص کی گواہی کو بھی درست قرار دیا ہے ، البتہ عیدالفطر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم دو آدمیوں کی گواہی کو درست قرار دیتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت سنن میں اختصار کے ساتھ موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمرو ابلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔