عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْأُمَوِيِّ قَالَ : قِيلَ لِعَائِشَةَ : رُئِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ . قَالَتْ : وَمَا يُعْجِبُكَ مِنْ ذَاكَ ؟ لِمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عمرو اموی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہا: گیا : اس مہینے میں انتیس کا چاند نظر آ گیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمہیں اس بات پر کیا حیرانگی ہو رہی ہے ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتیس روزے اس سے زیادہ مرتبہ رکھے ہیں جتنی مرتبہ ہم نے تیس روزے رکھے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَا تَقُولُوا : نَقُصَ الشَّهْرُ ; لِمَا صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم یہ نہ کہو مہینہ کم ہو گیا ہے کیونکہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتیس روزے اس سے زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں جتنی مرتبہ ہم نے تیس روزے رکھے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4816
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف