مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْأَهِلَّةِ وَقَوْلِهِ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ " . باب: پہلی کے چاند کا بیان اور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ اور اسے دیکھ کر روزہ رکھو “
حدیث نمبر: 4804
وَعَنْ مَسْرُوقٍ ، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " . وَقَالَ بِيَدِهِ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " . يَعْنِي : تِسْعًا وَعِشْرِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ صَدُوقٌ يَتَشَيَّعُ . ¤محمد محی الدین
مسروق اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس کی تعداد پوری کرو “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے کہا: مہینہ ( کبھی ) اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ہاشم بن برید ہے ، جو صدوق ہے ، لیکن اس میں تشیع پایا جاتا ہے ۔