عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ - أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ - عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ ؟ " . حَتَّى قَالَ لَهُ ذَلِكَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : لَا . قَالَ : " فَاسْقِ الْمَاءَ " . قَالَ : وَكَيْفَ أَسْقِيهِ ؟ قَالَ : " اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ ، وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " تَكْفِيهِمْ آلَتَهُ إِذْ حَضَرُوهُ ، وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَدْ جَهِلَ الْحُسَيْنِيُّ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ ، أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَالرَّاوِي ثِقَةٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ; فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَةُ . ¤
محمد محی الدین
عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض اپنے ایک فرد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چند مرتبہ یہی چیز دریافت کی ، تو انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم پانی پلاؤ انہوں نے عرض کی : میں کیسے پانی پلاؤں ؟ اسے پلاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب لوگ پانی کے پاس موجود ہوں تو تم آلہ ( ڈول ) کے ساتھ ان کی کفایت کرو ( یعنی انہیں پانی نکال کر دے دو ) اور جب وہ موجود نہ ہوں ، تو پانی لاد کر ان کی طرف لے جاؤ “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب لوگ پانی کے پاس موجود ہوں تو تم آلہ کے حوالے سے تم ان کی کفایت کرو اور جب وہ دور ہوں تو تم لاد کر ان کی طرف لے جاؤ“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ حسینی عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض نامی راوی سے ناواقف ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ان سے نقل کی ہے ۔ کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا راوی ثقہ ہے ، اور صحیح کے رجال میں سے ہے ، تو اس اعتبار سے اس کا مجہول ہونا ختم ہو جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4724
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (370/17) اخرجه احمد فى المسند (368/5)»
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ : سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ يُحَدِّثُ رَجُلًا : أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ قَالَ : " هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ ؟ " . قَالَ : لَا . فَسَأَلَهُ ثَلَاثًا . قَالَ : " اسْقِ الْمَاءَ ; احْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا ، وَاكْفِهِمْ إِيَّاهُ إِذَا حَضَرُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عیاض بن مرثد یا شاید مرثد بن عیاض کو ایک شخص کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے عمل کے بارے میں دریافت کیا : جو انہیں جنت میں داخل کر دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ان سے سوال کیا ، پھر ارشاد فرمایا تم پانی پلاؤ جب لوگ غیر موجود ہوں تو پانی لاد کر ان کے پاس لے جاؤ اور جب وہ ( پانی کے پاس ) موجود ہوں تو ان کی کفایت کرو ( یعنی انہیں پانی نکال کر دے دو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4725
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَنْزِعُ فِي حَوْضِي حَتَّى إِذَا مَلَأْتُهُ لِإِبِلِي وَرَدَ عَلَيَّ الْبَعِيرُ لِغَيْرِي فَسَقَيْتُهُ ، فَهَلْ [ لِي ] فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میں اپنے حوض میں سے پانی نکالتا ہوں یہاں تک کہ حوض کو اپنے اونٹ کے لئے بھر دیتا ہوں پھر ایک اونٹ آ جاتا ہے ، جو میرا نہیں ہوتا میں اسے بھی پانی پلا دیتا ہوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر جاندار چیز کے حوالے سے اجر ملتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4726
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7075)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الْمَاءُ ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ أَهْلِ النَّارِ لَمَّا اسْتَغَاثُوا بِأَهْلِ الْجَنَّةِ [ قَالُوا ] : ( أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ) . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ پانی ہے کیا تم نے اہل جہنم کے اس قول کو نہیں سنا ہے کہ جب وہ اہل جنت سے مدد مانگیں گے تو یہ کہیں گے : ” ہم پر پانی بہا دو یا اس چیز میں سے بہا دو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق میں سے دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مغیرہ ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4727
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1015) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2673)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : مَا عَمَلٌ إِنْ عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " أَنْتَ بِبَلَدٍ تَجْلِبُ بِهِ الْمَاءَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَاشْتَرِ لَهَا سِقَاءً جَدِيدًا ، ثُمَّ اسْقِ فِيهَا حَتَّى تَخْرِقَهَا ، فَإِنَّكَ لَمْ تَخْرِقْهَا حَتَّى تَبْلُغَ بِهَا عَمَلَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : وہ کون سا عمل ہے کہ اگر میں اس پر عمل کروں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم کسی ایسی جگہ پر رہتے ہو جہاں پانی لایا جاتا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم پانی کے لئے ایک نیا مشکیزہ خریدو اور اس میں پانی ڈال لو اسے استعمال کرتے رہو یہاں تک کہ اسے پرانا کر دو تو تمہارے اس کے پھاڑنے سے پہلے ہی تم اس کی وجہ سے جنت کے عمل تک پہنچ جاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4728
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12605)»
وَعَنْ كُدَيْرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي عَنِ النَّارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَ هُمَا أَعْمَلَتَاكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " تَقُولُ الْعَدْلَ ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ " . قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ كُلَّ سَاعَةٍ ، وَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُعْطِيَ الْفَضْلَ . قَالَ : " فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتُفْشِي السَّلَامَ " . قَالَ : هَذِهِ أَيْضًا شَدِيدَةٌ . قَالَ : " فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَانْظُرْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ ، ثُمَّ اعْمَدْ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسْقِهِمْ ; فَلَعَلَّكَ لَا يَهْلِكُ بَعِيرُكَ وَلَا يَتَخَرَّقُ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ " . فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يُكَبِّرُ ، فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُهُ ، وَلَا هَلَكَ بِعِيرُهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
کدیر ضبی بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے مجھے دور کر دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وه ( عمل ) یہ دونوں کام کرے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عدل کے مطابق بات کہو ، اور اضافی چیز دے دیا کرو اس نے عرض کی : اللہ کی قسم میں یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ ہر وقت عدل کے مطابق بات کہوں اور نہ ہی میں یہ طاقت رکھتا ہوں کہ ہر وقت اضافی چیز دے دیا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور سلام پھیلاؤ اس نے عرض کی : یہ بھی مشکل ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ لو اور ایک مشکیزہ لو اور پھر ایسے گھرانے کی طرف جاؤ جنہیں وقفے سے پانی ملتا ہے ، اور انہیں پانی فراہم کرو ہو سکتا ہے ، کہ تمہارے اونٹ کے مرنے سے پہلے اور تمہارے مشکیزے کے پھٹنے سے پہلے تمہارے لئے جنت واجب ہو جائے وہ دیہاتی تکبیر کہتا ہوا چلا گیا اور پھر اس کے مشکیزے کے پھٹنے سے پہلے اور اس کے اونٹ کے مرنے سے پہلے وہ شہید ہونے کے طور پر قتل ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (187/19)»
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا سَعْدُ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ خَفِيفَةٍ مُؤْنَتُهَا ، عَظِيمٍ أَجْرُهَا ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " سَقْيُ الْمَاءِ " . فَسَقَى سَعْدٌ الْمَاءَ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي سَقْيِ الْمَاءِ غَيْرُ هَذَا ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے سعد ! کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے صدقے کی طرف نہ کروں جسے کرنا آسان ہے ، اور اس چیز کا اجر زیادہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پانی پلانا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پانی پلایا کرتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے ، جو پانی پلانے کے بارے میں ہے ، اور اس کے علاوہ ہے اسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5385)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلَكَ رَجُلَانِ مَفَازَةً ; عَابِدٌ وَالْآخَرُ بِهِ رَهَقٌ ، فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتَّى سَقَطَ ، فَجَعَلَ صَاحِبُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ [ وَمَعَهُ مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ] ، وَهُوَ صَرِيعٌ . فَقَالَ : وَاللَّهِ لَئِنْ مَاتَ هَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشًا وَمَعِي مَاءٌ لَا أُصِيبُ مِنَ اللَّهِ خَيْرًا أَبَدًا ، وَلَئِنْ سَقَيْتُهُ مَائِي لَأَمُوتَنَّ . فَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَعَزَمَ ، فَرَشَّ عَلَيْهِ مِنْ مَائِهِ ، وَسَقَاهُ فَضْلَهُ ، فَقَامَ فَقَطَعَا الْمَفَازَةَ ، فَيُوقَفُ الَّذِي بِهِ رَهَقٌ [ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] لِلْحِسَابِ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَتَسُوقُهُ الْمَلَائِكَةُ فَيَرَى الْعَابِدَ فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا فُلَانٌ الَّذِي آثَرْتُكَ عَلَى نَفْسِي يَوْمَ الْمَفَازَةِ . فَيَقُولُ : بَلَى أَعْرِفُكَ . فَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ : قِفُوا . فَيَقِفُوا فَيَجِيءُ حَتَّى يَقِفَ فَيَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ عَرَفْتَ يَدَهُ عِنْدِي ، وَكَيْفَ آثَرَنِي عَلَى نَفْسِهِ ، يَا رَبِّ هَبْهُ لِي . فَيَقُولُ [ لَهُ ] : هُوَ لَكَ . فَيَجِيءُ فَيَأْخُذُ بِيَدِ أَخِيهِ ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ " . ¤ [ قَالَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ] فَقُلْتُ لِأَبِي ظِلَالٍ : أَحَدَّثَكَ أَنَسٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو ظِلَالٍ وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دو افراد ایک بے آب و گیاہ جگہ سے گزر رہے تھے ، ان میں سے ایک عبادت گزار تھا اور دوسرا گناہگار تھا ، عبادت گزار کو پیاس لگی ، یہاں تک کہ وہ گر گیا اس کے ساتھی نے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اس کے ساتھی کے پاس ایک برتن تھا جس میں تھوڑا سا پانی تھا اس نے اس عبادت گزار کی طرف دیکھنا شروع کیا کہ یہ گر چکا ہے پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم اگر یہ نیک بندہ پیاسا مر گیا اور میرے پاس پانی موجود ہوا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی کوئی بھلائی نصیب نہیں ہو گی ، لیکن اگر میں نے اپنا پانی اسے پلا دیا تو ہو سکتا ہے میں مر جاؤں پھر اس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، اور عزم کیا ، اور اس پر اپنا پانی چھڑکا اور اضافی پانی اسے پلا دیا وہ عبادت گزار کھڑا ہو گیا ۔ ان دونوں نے اس ویرانے کو پار کر لیا قیامت کے دن اس شخص کو حساب کے لئے پیش کیا گیا اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوا فرشتے اسے لے کے جانے لگے عبادت گزار نے دیکھا تو کہاں اے فلاں کیا تم نے مجھے پہچانا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا: میں وہ فلاں شخص ہوں کہ ویرانے سے گزرتے ہوئے تم نے میرے لئے اپنی ذات پر ایثار کیا تھا ، تو اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے تمہیں پہچان لیا تو عبادت گزار فرشتوں سے یہ کہے گا تم ٹھہر جاؤ وہ ٹھہر جائیں گے یہاں تک کہ وہ آئے گا ، اور کھڑا ہو کر اپنے پروردگار سے دعا کرے گا ، اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص نے مجھ پر جو احسان کیا تھا ، تو اس سے واقف ہے کہ اس نے کیسے میرے لئے ایثار کیا تھا اے میرے پروردگار ! اسے مجھے ہبہ کر دے تو پروردگار اس سے فرمائے گا وہ تمہارا ہوا پھر وہ عبادت گزار آئے گا ، اور اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑے گا ، اور اسے جنت میں داخل کروا دے گا “ ۔ جعفر بن ابوسلیمان بیان کرتے ہیں : میں نے ابوظلال سے کہا: کیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ابوظلال نامی راوی کو امام بخاری رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2927)»