مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ سَقْيِ الْمَاءِ . باب: پانی پلانا
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ : سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ يُحَدِّثُ رَجُلًا : أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ قَالَ : " هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ ؟ " . قَالَ : لَا . فَسَأَلَهُ ثَلَاثًا . قَالَ : " اسْقِ الْمَاءَ ; احْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا ، وَاكْفِهِمْ إِيَّاهُ إِذَا حَضَرُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عاصم بن کلیب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عیاض بن مرثد یا شاید مرثد بن عیاض کو ایک شخص کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے عمل کے بارے میں دریافت کیا : جو انہیں جنت میں داخل کر دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ان سے سوال کیا ، پھر ارشاد فرمایا تم پانی پلاؤ جب لوگ غیر موجود ہوں تو پانی لاد کر ان کے پاس لے جاؤ اور جب وہ ( پانی کے پاس ) موجود ہوں تو ان کی کفایت کرو ( یعنی انہیں پانی نکال کر دے دو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔