حدیث نمبر: 4731
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلَكَ رَجُلَانِ مَفَازَةً ; عَابِدٌ وَالْآخَرُ بِهِ رَهَقٌ ، فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتَّى سَقَطَ ، فَجَعَلَ صَاحِبُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ [ وَمَعَهُ مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ] ، وَهُوَ صَرِيعٌ . فَقَالَ : وَاللَّهِ لَئِنْ مَاتَ هَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشًا وَمَعِي مَاءٌ لَا أُصِيبُ مِنَ اللَّهِ خَيْرًا أَبَدًا ، وَلَئِنْ سَقَيْتُهُ مَائِي لَأَمُوتَنَّ . فَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَعَزَمَ ، فَرَشَّ عَلَيْهِ مِنْ مَائِهِ ، وَسَقَاهُ فَضْلَهُ ، فَقَامَ فَقَطَعَا الْمَفَازَةَ ، فَيُوقَفُ الَّذِي بِهِ رَهَقٌ [ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] لِلْحِسَابِ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَتَسُوقُهُ الْمَلَائِكَةُ فَيَرَى الْعَابِدَ فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا فُلَانٌ الَّذِي آثَرْتُكَ عَلَى نَفْسِي يَوْمَ الْمَفَازَةِ . فَيَقُولُ : بَلَى أَعْرِفُكَ . فَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ : قِفُوا . فَيَقِفُوا فَيَجِيءُ حَتَّى يَقِفَ فَيَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ عَرَفْتَ يَدَهُ عِنْدِي ، وَكَيْفَ آثَرَنِي عَلَى نَفْسِهِ ، يَا رَبِّ هَبْهُ لِي . فَيَقُولُ [ لَهُ ] : هُوَ لَكَ . فَيَجِيءُ فَيَأْخُذُ بِيَدِ أَخِيهِ ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ " . ¤ [ قَالَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ] فَقُلْتُ لِأَبِي ظِلَالٍ : أَحَدَّثَكَ أَنَسٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو ظِلَالٍ وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دو افراد ایک بے آب و گیاہ جگہ سے گزر رہے تھے ، ان میں سے ایک عبادت گزار تھا اور دوسرا گناہگار تھا ، عبادت گزار کو پیاس لگی ، یہاں تک کہ وہ گر گیا اس کے ساتھی نے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اس کے ساتھی کے پاس ایک برتن تھا جس میں تھوڑا سا پانی تھا اس نے اس عبادت گزار کی طرف دیکھنا شروع کیا کہ یہ گر چکا ہے پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم اگر یہ نیک بندہ پیاسا مر گیا اور میرے پاس پانی موجود ہوا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی کوئی بھلائی نصیب نہیں ہو گی ، لیکن اگر میں نے اپنا پانی اسے پلا دیا تو ہو سکتا ہے میں مر جاؤں پھر اس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، اور عزم کیا ، اور اس پر اپنا پانی چھڑکا اور اضافی پانی اسے پلا دیا وہ عبادت گزار کھڑا ہو گیا ۔ ان دونوں نے اس ویرانے کو پار کر لیا قیامت کے دن اس شخص کو حساب کے لئے پیش کیا گیا اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوا فرشتے اسے لے کے جانے لگے عبادت گزار نے دیکھا تو کہاں اے فلاں کیا تم نے مجھے پہچانا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا: میں وہ فلاں شخص ہوں کہ ویرانے سے گزرتے ہوئے تم نے میرے لئے اپنی ذات پر ایثار کیا تھا ، تو اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے تمہیں پہچان لیا تو عبادت گزار فرشتوں سے یہ کہے گا تم ٹھہر جاؤ وہ ٹھہر جائیں گے یہاں تک کہ وہ آئے گا ، اور کھڑا ہو کر اپنے پروردگار سے دعا کرے گا ، اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص نے مجھ پر جو احسان کیا تھا ، تو اس سے واقف ہے کہ اس نے کیسے میرے لئے ایثار کیا تھا اے میرے پروردگار ! اسے مجھے ہبہ کر دے تو پروردگار اس سے فرمائے گا وہ تمہارا ہوا پھر وہ عبادت گزار آئے گا ، اور اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑے گا ، اور اسے جنت میں داخل کروا دے گا “ ۔ جعفر بن ابوسلیمان بیان کرتے ہیں : میں نے ابوظلال سے کہا: کیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ابوظلال نامی راوی کو امام بخاری رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2927)»