حدیث نمبر: 4732
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : " الْمَاءُ ، وَالْمِلْحُ ، وَالنَّارُ " . قَالَتْ : هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ ؟ فَقَالَ : " مَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا حَطِئْتَ بِهِ الْمِلْحَ ، وَمَنْ أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتِ النَّارُ ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ : مَجْهُولٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سی چیز ایسی ہے ، جسے نہ دینا جائز نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پانی ، نمک اور آگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : پانی کی ، تو بات سمجھ آتی ہے نمک اور آگ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص نمک دیتا ہے گویا کہ وہ اس پوری چیز کو صدقہ کر دیتا ہے ، جس کو نمک کے ذریعے تیار کیا ( یعنی پکایا ) گیا ہو ، اور جو شخص آگ دیتا ہے گویا کہ وہ اس ساری چیز کو صدقہ کر دیتا ہے ، جس کو آگ نے پکایا ہو جو شخص کسی مسلمان کو پانی کا ایک گھونٹ پلاتا ہے ایک ایسی جگہ پر جہاں پانی دستیاب ہوتا ہو تو گویا وہ ایک غلام کو آزاد کرتا ہے ، اور جو شخص کسی مسلمان کو پانی کا ایک گھونٹ ایسی جگہ پر پلاتا ہے جہاں پانی دستیاب نہ ہو ، تو گویا اس نے اسے زندگی دی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن مرزوق ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ، اور منکرالحدیث ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن مرزوق ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ، اور منکرالحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 4733
وَعَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنَّ يُدْلِجْنَ بِالْقِرَبِ ، يَسْقِينَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مشکیزے میں پانی لایا کرتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پانی پلایا کرتی تھیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔