عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ; فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ اس میں عبرت پائی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، فَإِنَّ لَكُمْ فِيهَا عِبْرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ تمہارے لئے ان میں عبرت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " [ كُنْتُ ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَكُلُّوا وَادَّخِرُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَلَا تَقُولُوا مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَانْتَبِذُوا ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین سے زیادہ استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو البتہ کوئی ایسی بات نہ کہنا جو پروردگار کو ناراض کر دے اور میں نے تمہیں ( مخصوص قسم کے ) برتنوں سے منع کیا تھا ، تو تم نبیذ تیار کر لو ، لیکن ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا ، أَحْسَبُهُ قَالَ : " فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا پھر آپ نے اس کی رخصت دی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ فرمایا تھا کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ نَحْوَ الْمَقَابِرِ ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ قَبْرٍ ، فَرَأَيْنَاهُ كَأَنَّهُ يُنَاجِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدُّمُوعَ مِنْ عَيْنَيْهِ ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ ، وَكَانَ أَوَّلُنَا فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي وَكَانَتْ وَالِدَةً وَلَهَا قِبَلِي حَقٌّ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَنَهَانِي " . قَالَ : ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسْنَا ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ ، وَإِنِّي [ كُنْتُ ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، وَإِنِّي [ كُنْتُ ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ ظُرُوفٍ ، وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ ، [ وَأَمَرْتُكُمْ بِـ ] ظُرُوفٍ فَانْتَبِذُوا ; فَإِنَّ الْآنِيَةَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي الْأَشْرِبَةِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبرستان کی طرف گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کی طرف رخ کر کے تشریف فرما ہوئے ، ہم نے آپ کو دیکھا یوں لگ رہا تھا جیسے آپ مناجات کر رہے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آپ سے ملاقات ہوئی وہ ہم سب سے پہلے آپ سے ملے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ اپنی ماں کی قبر کی زیارت کروں کیونکہ وہ میری والدہ ہیں اور ان کا مجھ پر حق ہے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان کے لئے دعا مغفرت کروں تو پروردگار نے مجھے منع کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ ہم بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم میں سے جو شخص ( قبروں کی ) زیارت کرنا چاہے وہ زیارت کر لے اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو جتنا تمہیں مناسب لگے اور میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں سے منع کیا تھا اور مخصوص قسم کے برتنوں کی تمہیں اجازت دی تھی تو اب تم ( کسی بھی قسم کے برتن میں ) نبیذ تیار کر لو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے ، البتہ تم ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا ، وَاجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْتَبِسُوا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْتَبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ النَّابِغَةِ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ عَنْ عَلِيٍّ فِي الْأَضَاحِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے سے ، مخصوص قسم کے برتنوں سے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گی میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا ، تو تم اس چیز سے اجتناب کرو جو نشہ آور ہو ، اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا اب جتنا تمہیں مناسب لگے تم اسے روک کے رکھو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن نابغہ ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : قربانی کے گوشت کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کی نقل کردہ روایت مستند نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن نابغہ ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : قربانی کے گوشت کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کی نقل کردہ روایت مستند نہیں ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زُورُوا الْقُبُورَ ، وَلَا تَقُولُوا هَجْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قبروں کو زیارت کرو ، لیکن کوئی بری بات نہ کہنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر مں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر بن مروان ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر مں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر بن مروان ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فَاشْرَبُوا ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي بَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الْأَضَاحِيِّ وَالْأَشْرِبَةِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو ، لیکن تم کوئی بری بات نہ کہنا اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم کھاؤ بھی اور روک کے بھی رکھو اور میں نے تمہیں نبیذ سے منع کیا تھا اب تم اسے پی لو البتہ تم نشہ آور چیز نہ پینا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابونضر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث قربانی کے گوشت اور مشروبات سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابونضر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث قربانی کے گوشت اور مشروبات سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَاجْعَلُوا زِيَارَتَكُمْ لَهَا صَلَاةً عَلَيْهِمْ ، وَاسْتِغْفَارًا لَهُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا مِنْهَا وَادَّخِرُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ فَانْتَبِذُوا وَانْتَفِعُوا بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو اور اپنی ان کی زیارت کو ان لوگوں کے لئے رحمت اور ان لوگوں کے دعائے استغفار بناؤ اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھا بھی لو اور ذخیرہ بھی کرو اور میں نے تمہیں اس چیز سے منع کیا تھا جو دباء یا حنتم یا نقیر میں نبیذ تیار کی جاتی ہے اب تم ( ان برتنوں میں ) نبیذ تیار کر لو اور ان کے ذریعے نفع حاصل کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ثَلَاثٌ نَهَيْتُكُمْ عَنْهَا : زِيَارَةُ الْقُبُورِ ، وَلُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، وَنَبْذٌ فِي الْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ ، أَلَا فَزُورُوا إِخْوَانَكُمْ وَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَإِنَّ فِيهِمْ عِبْرَةً ، أَلَا وَلُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا مِنْهَا وَادَّخِرُوا ، أَلَا وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، أَلَا وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تین چیزوں سے میں نے تمہیں منع کیا تھا قبروں کی زیارت کرنے سے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے اور مزفت نقیر اور حنتم میں نبیذ تیار کرنے سے ، خبردار ! اب تم اپنے بھائیوں کی ( قبروں کی ) زیارت کرو اور ان پر سلام بھیجو کیونکہ اس میں عبرت پائی جاتی ہے خبردار اب تم قربانی کا گوشت کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو خبردار ہر نشہ آور چیز خمر ہے ، اور خبردار ہر خمر حرام ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں عبدالجبار کے حوالے سے
یہ روایت صرف محمد بن ابوخصیب نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں عبدالجبار کے حوالے سے
یہ روایت صرف محمد بن ابوخصیب نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا ، وَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الْوَفَاءِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ اہل بقیع کے لئے دعائے رحمت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت تین مرتبہ ان کے لئے دعائے رحمت کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہ روایت علامات نبوۃ سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہ روایت علامات نبوۃ سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔
وَلَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، انْطَلِقْ ، فَإِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ " . فَانْطَلَقْتُ ، فَلَمَّا أَتَى الْبَقِيعَ قَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ ، لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ بِمَا أَصْبَحَ النَّاسُ فِيهِ ، لَوْ تَدْرُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ ، أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ " . ¤ وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارِ كِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام بزار نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابومویہبہ ! تم چلو مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کروں “ ۔ میں چل پڑا جب آپ بقیع تشریف لائے تو آپ نے یہ دعا کی : ” اے قبرستان والو ! تم پر سلام ہو لوگ جس حالت میں ہیں اور اس کے مقابلے میں تم جس حالت میں ہو تمہیں مبارک ہو کاش تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں کس چیز سے نجات عطا کی ہے کیونکہ فتنے آ رہے ہیں “ ۔ امام أحمد اور امام بزار دونوں کی سند کے راوی ضعیف ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْهَبُ إِلَى الْحَيَّانِ مَاشِيًا ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَزَادَ فِيهِ : وَيَرْجِعُ مَاشِيًا ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل حیان کی طرف تشریف لے جاتے تھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے ( یا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا کیا کرتے تھے ۔ )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” اور آپ پیدل واپس آتے تھے “ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” اور آپ پیدل واپس آتے تھے “ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا كُلَّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهُ وَكُتِبَ بَرًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہر جمعہ کے دن اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرتا ہے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اسے نیک نوٹ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْحَيَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عیدین کے موقع پر قبرستان جانا سنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ - يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ - بِالْحُبَشِيِّ ، فَلَمَّا حَجَّتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَهُ فَقَالَتْ : ¤ وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا ¤ لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ وَلَدَفَنْتُكَ حَيْثُ مِتَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حبشی میں انتقال ہو گیا تو جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے لئے جا رہی تھیں تو ان کی قبر پر آئیں اور بولیں : ” ہم جزیمہ کے دو ساتھیوں کی طرح ایک عرصے تک ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ یہ کہا: گیا کہ یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے اور جب ہم جدا ہوئے تو میں اور مالک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے حوالے سے یوں تھے کہ جیسے ہم نے ایک رات بھی ساتھ نہیں گزاری “ ۔ اللہ کی قسم ! اگر میں تمہارے پاس موجود ہوتی ، تو میں تمہارے پاس آتی اور تمہیں وہیں دفن کرتی ، جہاں تمہارا انتقال ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔