حدیث نمبر: 4314
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ - يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ - بِالْحُبَشِيِّ ، فَلَمَّا حَجَّتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَهُ فَقَالَتْ : ¤ وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا ¤ لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ وَلَدَفَنْتُكَ حَيْثُ مِتَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حبشی میں انتقال ہو گیا تو جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے لئے جا رہی تھیں تو ان کی قبر پر آئیں اور بولیں : ” ہم جزیمہ کے دو ساتھیوں کی طرح ایک عرصے تک ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ یہ کہا: گیا کہ یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے اور جب ہم جدا ہوئے تو میں اور مالک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے حوالے سے یوں تھے کہ جیسے ہم نے ایک رات بھی ساتھ نہیں گزاری “ ۔ اللہ کی قسم ! اگر میں تمہارے پاس موجود ہوتی ، تو میں تمہارے پاس آتی اور تمہیں وہیں دفن کرتی ، جہاں تمہارا انتقال ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4314
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح