حدیث نمبر: 4310
وَلَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، انْطَلِقْ ، فَإِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ " . فَانْطَلَقْتُ ، فَلَمَّا أَتَى الْبَقِيعَ قَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ ، لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ بِمَا أَصْبَحَ النَّاسُ فِيهِ ، لَوْ تَدْرُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ ، أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ " . ¤ وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارِ كِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

امام بزار نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابومویہبہ ! تم چلو مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کروں “ ۔ میں چل پڑا جب آپ بقیع تشریف لائے تو آپ نے یہ دعا کی : ” اے قبرستان والو ! تم پر سلام ہو لوگ جس حالت میں ہیں اور اس کے مقابلے میں تم جس حالت میں ہو تمہیں مبارک ہو کاش تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں کس چیز سے نجات عطا کی ہے کیونکہ فتنے آ رہے ہیں “ ۔ امام أحمد اور امام بزار دونوں کی سند کے راوی ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4310
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «. اخرجه الامام البزار فى المسند (863)»