حدیث نمبر: 4281
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدِمُهَا ، فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ لَهَا الْيَهُودِيَّةُ : وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ . قَالَتْ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَعَمَّ ذَاكَ ؟ " . قَالَتْ : هَذِهِ يَهُودِيَّةٌ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ : وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ . قَالَ : " كَذَبَتْ يَهُودُ ، وَهُمْ عَلَى اللَّهِ كُذُبٌ ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ مُحَمَّرَةً عَيْنَاهُ ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَظَلَّتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، أَيُّهَا النَّاسُ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی خاتون ان کی خدمت کیا کرتی تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی اسے کوئی چیز دیا کرتی تھیں تو وہ یہودی خاتون ان سے یہی کہا: کرتی تھی اللہ تعالیٰ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت سے پہلے قبر میں عذاب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں اس سوال کی وجہ کیا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا یہ یہودی عورت ہے میں جب بھی اس کے ساتھ کوئی اچھائی کرتی ہوں تو وہ یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہودی غلط کہتے ہیں : یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہیں ، قیامت کے دن سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار کے وقت نکلے آپ نے اپنے کپڑے کو لپیٹا ہوا تھا آپ کی آنکھیں سرخ تھیں آپ نے بلند آواز میں پکار کر یہ کہا: ” اے لوگو ! تم پر ایسے فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اے لوگو ! اگر تمہیں وہ بات چل جائے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنسو اور تم زیادہ روؤ اے لوگو ! تم قبر کے عذاب سے پناہ مانگو کیونکہ قبر کا عذاب حق ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4282
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحَلًّا لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رِجَالٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے محلے میں داخل ہوئے آپ نے بنو نجار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی آوازیں سنیں جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے تھے ، اور انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں نکلے آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 4283
وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ : عَنْ جَابِرٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُبُورِ نِسَاءٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ هَلَكُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَمِعَهُمْ يُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ فِي النَّمِيمَةِ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بنو نجار سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین کی قبروں کے پاس سے ہوا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنا کہ قبروں میں انہیں چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ۔
حدیث نمبر: 4284
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " " يُرْسَلُ عَلَى الْكَافِرِ حَيَّتَانِ : وَاحِدَةٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، وَالْأُخْرَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ يُقْرِضَانِهِ قَرْضًا ، كُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” کافر پر دو سانپ بھیجے جاتے ہیں ایک اس کے سر کی طرف ہوتا ہے ، اور دوسرا پاؤں کی طرف سے ہوتا ہے وہ دونوں اسے ڈنک مارتے ہیں جب بھی وہ دونوں فارغ ہوتے ہیں تو دوبارہ ایسا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 4285
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، وَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَ خَضِرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى مَوْقُوفًا ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کافر پر اس کی قبر میں ننانوے اژدھے مسلط کیے جاتے ہیں جو قیامت قائم ہونے تک اسے ڈنک مارتے رہیں گے ، اگر ان میں سے کوئی ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تو اس جگہ پر کبھی سبزہ نہ اگے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4286
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ فِي رَوْضَةٍ ، وَيُرَحَّبُ لَهُ قَبْرِهِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا ، وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ) [ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكِ ؟ ] قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لِيُسَلَّطُ عَلَيْهِمْ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا ، أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ ؟ " . قَالَ : " تِسْعٌ وَتِسْعُونَ حَيَّةً ، لِكُلِّ حَيَّةٍ سَبْعَةُ رُءُوسٍ ، يَنْفُخُونَ فِي جِسْمِهِ ، وَيَلْسَعُونَهُ وَيَخْدِشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن اپنی قبر میں باغ میں ہوتا ہے اس کی قبر کو ستر گز تک کشادہ کر دیا جاتا ہے ، اور چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن کر دیا جاتا ہے کیا تم جانتے ہو یہ آیت کس کے لئے نازل ہوئی ہے : ” اور اس کے لئے تنگی کی زندگی ہو گی ، اور ہم قیامت کے دن اسے نابینا ہونے کے طور پر دوبارہ زندہ کریں گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تنگی کی زندگی سے مراد کیا ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد کافر کا عذاب ہے ، جو اسے قبر میں ہو گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس شخص پر ننانوے تنین مسلط کیے جائیں گے کیا تم جانتے ہو تنین کیا ہوتا ہے آپ نے فرمایا : وہ ننانوے سانپ ہوں گے ہر سانپ کے سات سر ہوں گے وہ اس کافر کے جسم میں پھونک ماریں گے اسے ڈسیں گے اسے زخمی کریں گے اور ایسا قیامت کے دن تک ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4287
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لِأَبِي طَلْحَةَ يَبْرُزُ لِحَاجَتِهِ قَالَ : وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ ، يُكْرِمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ ، فَمَرَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ ، فَقَامَ حَتَّى تَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا بِلَالُ ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ ؟ " . قَالَ : مَا أَسْمَعُ شَيْئًا . قَالَ : " صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ " . فَسَأَلَ عَنْهُ فَوَجَدَ يَهُودِيًّا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں موجود تھے ، آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے چل رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کے باعث وہ آپ کے ساتھ نہیں چلتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ ٹھہر گئے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آ گئے آپ نے فرمایا : اے بلال ! تمہارا ستیاناس ہو کیا تم وہ بات سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : میں کچھ نہیں سن رہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبر والے کے بارے میں دریافت کیا ، تو پتہ چلا کہ وہ ایک یہودی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4288
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ يَمْشِيَانِ بِالْبَقِيعِ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بِلَالُ ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ ؟ " . قَالَ : [ لَا ] وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْمَعُهُ ! قَالَ : " أَلَا تَسْمَعُ أَهْلَ هَذِهِ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ ؟ " . يَعْنِي : قُبُورَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے ہے ، اور جس پر میں تہمت عائد نہیں کرتا وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جنت البقیع سے گزر رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال تم وہ بات سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں انہوں نے عرض کی : جی نہیں اللہ کی قسم میں وہ نہیں سن رہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم ان قبر والوں کو نہیں سن رہے ، جنہیں عذاب ہو رہا ہے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل جاہلیت کی قبریں تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4289
وَعَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطَ بَنِي النَّجَّارِ فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَسَمِعَهُمْ [ وَهُمْ ] يُعَذَّبُونَ ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّهُمْ لِيُعَذَّبُونِ فِي قُبُورِهِمْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت بنونجار کے ایک باغ میں موجود تھی اس باغ میں ان لوگوں کی کچھ قبریں بھی تھیں جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سنا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے آپ باہر نکلے اور یہ کہہ رہے تھے تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ان لوگوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ایسا عذاب ہو رہا ہے ، جسے جانور بھی سنتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4290
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَهُوَ يَسِيرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَنَفَرَتْ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا شَأْنُ رَاحِلَتِكَ نَفَرَتْ ؟ قَالَ : " إِنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فَنَفَرَتْ لِذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا آپ اپنی سواری پر چل رہے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی سواری کا کیا معاملہ ہے کہ یہ بے چین ہو رہی ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس نے ایک شخص کی آواز سنی ہے ، جسے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے ، تو اس وجہ سے یہ بے چین ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4291
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمَوْتَى لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ ; حَتَّى إِنَّ الْبَهَائِمَ تَسْمَعُ أَصْوَاتَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے یہاں تک کہ جانور ان کی آواز سنتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 4292
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، [ فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَّ فِي نَفْسِهِ ، فَحُبِسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي قَلْبِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ ] ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ : إِذَا بِقَبْرَيْنِ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ ؟ " [ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، قَالَ : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا ] ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانِ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ " . وَأَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا ، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَلِمَ فَعَلْتَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " لِيُخَفَّفَ عَنْهُمَا " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَحَتَّى مَتَى يُعَذَّبَانِ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ ، [ وَلَوْلَا تَجَافِي قُلُوبِكُمْ وَتَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ سَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شدید گرم دن میں بقیع غرقد کے پاس سے ہوا کچھ لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے ، جب آپ نے ان کے جوتوں کی آواز سنی تو آپ کو الجھن محسوس ہوئی آپ رک گئے ان لوگوں کو اپنے سے آگے چلنے دیا تاکہ آپ کے دل میں تکبر نہ آئے جب آپ بقیع سے گزرے تو وہاں دو قبریں موجود تھیں جن میں دو افراد کو دفن کیا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں آج تم نے کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! فلاں اور فلاں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ، اور انہیں ان کی قبر میں آزمائش کا شکار کیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں میں سے ایک چغلی کیا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ لی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور انہیں دونوں کی قبروں پر لگا دیا لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تاکہ ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ان دونوں کو کب تک عذاب ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک غیب ہے ، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، ۔ اگر تمہارے دلوں کی غفلت نہ ہوتی اور تمہاری بات چیت نہ ہوتی ، تو تم بھی وہ بات سنتے ، جو میں سنتا ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4293
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ يَوْمًا بِقُبُورٍ وَمَعَهُ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ ، فَشَقَّهَا بِاثْنَتَيْنِ ، وَوَضَعَ وَاحِدَةً عَلَى قَبْرٍ ، وَالْأُخْرَى عَلَى قَبْرٍ آخَرَ ، ثُمَّ مَضَى فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يُعَذَّبُ فِي النَّمِيمَةِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانِ لَا يَتَّقِي الْبَوْلَ ، وَلَنْ يُعَذَّبَا مَا دَامَتْ هَذِهِ رَطْبَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ کے پاس ایک تر شاخ تھی آپ نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور ایک حصہ ایک قبر پر رکھ دیا اور دوسرا حصہ دوسری قبر پر رکھ دیا پھر آپ تشریف لے گئے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک شخص کو چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا جب تک یہ شاخ تر رہے گی ان دونوں کو عذاب نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن میسرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن میسرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4294
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ حُفْرَةٍ فِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي . فَلَا أَدْرِي أَعَرَفَ اسْمِي أَوْ دَعَانِي بِدَعَايَةِ الْعَرَبِ . وَخَرَجَ رَجُلٌ فِي ذَلِكَ الْحَفِيرِ فِي يَدِهِ سَوْطٌ فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ فَإِنَّهُ كَافِرٌ . ثُمَّ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ حَتَّى عَادَ إِلَى حُفْرَتِهِ . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي : " أَوَ قَدْ رَأَيْتَهُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَذَاكَ عَذَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں بدر کے آس پاس سفر کر رہا تھا اسی دوران ایک گڑھے میں سے ایک شخص نکلا جس کی گردن میں ایک بیڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ ! تم مجھے کچھ پلاؤ ! مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ کیا اس نے میرا نام لیا ہے ، یا مجھے عربوں کے مخصوص طریقے کے مطابق بلایا ہے پھر اس گڑھے میں سے ایک اور شخص نکلا جس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ ! تم اسے نہ پلاؤ کیونکہ یہ کافر ہے پھر اس نے اسے چھڑی ماری پھر اسے واپس گڑھے میں لے گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جلدی سے حاضر ہوا میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اللہ کا دشمن ابوجہل بن ہشام تھا اور یہ اس کا عذاب ہے ، جو قیامت تک ہوتا رہے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4295
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ " . فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ ، وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " لَنْ يَزَالَ يُخَفَّفُ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا دَامَ فِيهِمَا نُدُوٌّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ نے فرمایا : میرے پاس دو شاخیں لے کے آؤ ! آپ نے ان میں سے ایک شاخ اس کے سرہانے رکھ دی اور دوسری پاؤں کی طرف لگا دی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز اسے فائدہ دے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں تر رہیں گی اس شخص کے عذاب میں کچھ تخفیف ہوتی رہے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4296
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ " . ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَوَضَعَهَا عَلَى قَبْرِهِ فَقَالَ : " لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ أَبِي جَبِيرَةَ قَالَ الْحُسَيْنِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے ، جو کسی ایسے بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ( جس سے بچنا مشکل ہو ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ منگوائی اور اسے اس کی قبر پر رکھ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : جب تک یہ تر رہے گی اس وقت تک اس کے عذاب میں تخفیف رہے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن ابوجبیرہ ہے حسینی فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن ابوجبیرہ ہے حسینی فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 4297
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : إِنَّ تَسْوِيَةَ الْقَبْرِ مِنَ السُّنَّةِ ، قَدْ رَفَعَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَلَا تَشَبَّهُوا بِهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قبر کو برابر رکھنا سنت ہے یہودی اور عیسائی قبر بلند رکھتے ہیں تم ان دونوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4298
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَخِي قَالَ : أُصِيبَ أَبُوكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَدُفِنَ فِي مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ أَمَرَّ الْخَيْلَ عَلَى قَبْرِهِ لِئَلَّا يُرَى أَثَرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعُثْمَانُ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
عثمان بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میرے بھائی نے مجھے یہ بات بتائی کہ تمہارے والد عبدالرحمن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شہید ہو گئے تھے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں مسجد کعبہ میں دفن کیا گیا پھر انہوں نے گھوڑوں کو ان کی قبر کے اوپر سے گزار دیا تاکہ اس کا نشان ختم ہو جائے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عثمان نامی راوی کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عثمان نامی راوی کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔