حدیث نمبر: 4315
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ - بَقِيعِ الْغَرْقَدِ - فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَاحِقُونَ " . - يَعْنِي : بِكُمْ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع یعنی بقیع غرقد کی طرف تشریف لے گئے اور یہ پڑھا : ” اے مسلمانوں اور مومنوں کے علاقے والو ! تم پر سلام ہو اللہ تعالیٰ پہلے چلے جانے والوں پر رحم کرے اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی آ ملیں گئے “ ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی تم لوگوں سے آ ملیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غالب بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غالب بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4316
وَعَنْهُ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ حِينَ رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّكُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ اللَّهِ ، فَزُورُوهُمْ وَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ إِلَّا رَدُّوا عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جب آپ اُحد سے واپس تشریف لا رہے تھے ۔ آپ ان کے اور ان کے ساتھیوں ( کی قبروں کے پاس ) ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زندہ ہو “ ( پھر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ) تم ان کی ( قبروں کی ) زیارت کرو اور ان پر سلام بھیجو قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو شخص بھی ان پر سلام بھیجے گا یہ جواب دیتے رہیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4317
وَعَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ . أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ ، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ ، عَافَانَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ایک جنازے میں شریک ہوئے آپ قبرستان آئے ، تو آپ نے یہ فرمایا : ” اہل قبرستان پر سلام ہو “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( پھر یہ فرمایا ) : ” تم میں سے جو شخص بھی مؤمن ہے ، اور مسلمان ہے تم ہمارے پیشرو ہو ، اور ہم تمہارے پیچھے آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں عافیت عطا کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4318
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقْتُهُ بِالْبَقِيعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " . وَانْقَطَعَ شِسْعِي فَقَالَ : " أَنْعِشْ قَدَمَكَ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَالَتْ عُزُوبَتِي ، وَنَأَيْتُ عَنْ دَارِ قَوْمِي ، فَقَالَ : " يَا بَشِيرُ ، أَلَا تَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَخَذَ بِنَاصِيَتِكَ مِنْ بَيْنِ رَبِيعَةَ قَوْمٍ يَرَوْنَ لَوْلَاهُمُ انْكَفَأَتِ الْأَرْضُ بِمَنْ عَلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ عِنْدَ أَحْمَدَ تَأْتِي فِي الْمَنَاقِبِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، بقیع میں آپ کے پاس آ کے ملا ، تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” مومنین کے علاقے کے رہنے والوں پر سلام ہو “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا تسمہ ٹوٹ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جوتے کے بغیر چلو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے علاقے سے خاصے عرصے سے دور ہوں ، اور اپنی قوم کی جگہ سے دور ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بشیر ! کیا تم اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ربیعہ قوم کے درمیان میں سے تمہاری پیشانی کو پکڑا اور تمہیں اسلام کی توفیق عطا کی ) ، وہ لوگ کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ لوگ نہ ہوتے ، تو زمین ، اُس کے اوپر موجود سب چیزوں سمیت اوندھی ہو جاتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی ایک سند امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، جو مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی ایک سند امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، جو مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔